کوویڈ قواعد میں حجاب ، مسلم لڑکیوں کو کالجس میں حجاب کی اجازت نہیں: سی ایم ابراہیم

   

علمائے کرام سے رہنمائی کی اپیل، شریعت کے خلاف یونیفارم تیار کرنے سے گریز کا مشورہ

حیدرآباد۔/6 فروری، ( سیاست نیوز) سابق مرکزی وزیر سی ایم ابراہیم نے کرناٹک کی بی جے پی حکومت کی جانب سے حجاب پر غیر ضروری تنازعہ کھڑا کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں علمائے کرام کو اس بات کی رہنمائی کرنی چاہیئے کہ لڑکیوں کیلئے شریعت کے مطابق حجاب کی کیا صورت ہونی چاہیئے۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سی ایم ابراہیم نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے گاؤ کشی اور پھر تبدیلی مذہب پر امتناع قانون کے ذریعہ کرناٹک میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن اسے ناکامی ہوئی۔ اب حجاب پر پابندی کا قانون لایا گیا۔ انہوں نے کہاکہ حجاب دراصل وہی ہے جو کوویڈ قواعد میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ کوویڈ قواعد کے تحت حجاب کی پابندی ہے لیکن تعلیمی اداروں میں مسلم طالبات کو اس سے روکا جارہاہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لڑکیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے اور تعلیم کے ساتھ ساتھ شریعت بھی محفوظ رہے۔ انہوں نے کہا کہ علماء کرام کو اجلاس طلب کرتے ہوئے سیاسی قائدین کی رہنمائی کرنی چاہیئے۔ لڑکیوں کے تعلیمی اداروں اور کوایجوکیشن اداروں میں حجاب کے اُصولوں کی رہنمائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ میں اس بارے میں 8 فروری کو سماعت مقرر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے تعلیمی اداروں کیلئے یونیفارم طئے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مسلمانوں کو اس فیصلہ سے اعتراض نہیں لیکن یونیفارم کسی بھی مذہب کے بنیادی اُصولوں کے خلاف نہ ہو۔ انہوں نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیاکہ حجاب کے مسئلہ پر لڑکیاں بے باکی کے ساتھ فرقہ پرست طاقتوں کا جواب دے رہی ہیں۔ سی ایم ابراہیم نے پولیس سے کہا کہ وہ لڑکیوں کے ساتھ کوئی زیادتی نہ کریں اور یہ جان لیں کہ حکومت مستقل نہیں ہوتی۔ ایک بھی لڑکی پر لاٹھی چلتی ہے تو کرناٹک میں ہنگامہ ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جین اور مارواڑی طبقات کی خواتین گھونگھٹ کے ذریعہ حجاب کرتی ہیں لیکن انہیں روکا نہیں جاسکتا۔ حجاب دراصل اپنی عزت و عفت کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے کرناٹک حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ شریعت کے خلاف کوئی بھی فیصلہ کرنے سے گریز کرے۔ر