کوویڈ ٹیکہ کے بغیر سرٹیفکیٹس کے حصول کی شکایتوں میں اضافہ

   

کورونا وائرس کے امکانی تیسری لہر کے دوران ٹیکہ سے متعلق شکوک و شبہات کا اندیشہ
حیدرآباد۔26اگسٹ(سیاست نیوز) کوروناوائرس کی تیسری لہر میں پیدا ہونے والی شدت ریاست میں کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے دیئے جانے والے ٹیکوں سے متعلق شبہات میں اضافہ کا سبب بنے گی۔ کورونا وائرس کی تیسری لہر کے دوران شکار ہونے والوں کی بڑی تعداد میں ٹیکہ حاصل کرنے والے ہونے کا دعویٰ کیا جائے گا کیونکہ ٹیکہ نہ لیتے ہوئے سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا ہے ۔ جو لوگ ٹیکہ اندازی میں حصہ لینے کے بجائے سرٹیفیکیٹ حاصل کر رہے ہیں وہ اگر تیسری لہر کے دوران کورونا وائرس کا شکار ہوتے ہیں تو ان کے متعلق یہ دعوے کئے جائیں گے کہ ان لوگوں نے تو کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کیلئے ٹیکہ حاصل کیا تھا اور ان کے اپنے سرٹیفیکیٹ بھی موجود ہیں لیکن اس کے باوجود یہ کورونا وائرس کا شکار ہوئے ہیں ۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے علاوہ ریاست کے دیگر اضلاع سے بھی اس بات کی شکایات موصول ہونے لگی ہیں کہ کئی مقامات پر ٹیکہ حاصل کئے بغیر سرٹیفیکیٹ حاصل کئے جا رہے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ محکمہ صحت نے اس سلسلہ میں ضلعی حکام کو حقائق سے آگہی حاصل کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں اور کہا کہ عوام میں ٹیکہ کے حصول کے لئے شعور اجاگر کرنے کے علاوہ ان کو ٹیکہ اندازی کے لئے تیار کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر اب کوئی کورونا وائرس سے متاثر ہوتا ہے اور اس کے پاس کورونا وائرس کا ٹیکہ حاصل کرنے کے سرٹیفیکیٹ موجود ہیں تو ایسی صورت میں ٹیکوں کے متعلق شہریو ںمیں مزید بد گمانیاں پیدا ہونے لگ جائیں گی ۔ شہر حیدرآباد کے خانگی اور سرکاری ٹیکہ اندازی مراکز پر 700تا1000 روپئے میں ٹیکہ اندازی کا سرٹیفیکیٹ فروخت کیا جا رہا ہے اور ان سرٹیفیکیٹس کو حاصل کرنے والوں میں سرکاری ملازمین کے علاوہ ان ملازمین کی بڑی تعداد شامل ہے جن کے لئے حکومت کی جانب سے ٹیکہ کے حصول کا لزوم عائد کیا جاچکا ہے ۔کورونا وائرس کے ٹیکوں کے حصول کے بجائے سرٹیفیکیٹ کے حصول کو اپنی کامیابی تصور کرنے والے درحقیقت خوش فہمی میں مبتلاء ہیں اور یہ مان رہے ہیں کہ وہ کامیاب ہوچکے ہیں لیکن جب کورونا وائرس کی تیسری لہر کے دوران اگر وہ متاثر ہوتے ہیں اور انہیں علاج کی ضرورت پیش آتی ہے تو ایسی صورت میں انہیں کورونا وائرس سے نجات کے لئے دی جانے والی ادویات دینے سے گریز کیا جائے گا کیونکہ حکومت کے مطابق انہیں ٹیکہ دیا جاچکا ہے اسی لئے انہیں ایسی کسی ادویات کی ضرورت نہیں ہے جو کہ ان کے مدافعتی نظام کو متحرک کرے۔M