کوویڈ کے درمیان ایک ماہ طویل عید و تہوار تقاریب حکومت کے لیے آزمائشی ثابت ہوں گے

   

حیدرآباد :۔ کورونا وبا کے دوران 13 اپریل تا 2 مئی ایک ماہ طویل عید و تہواروں کا سیزن حکومت تلنگانہ کے لیے ایک آزمائش ثابت ہوگا ۔ 13ا پریل سے ماہ رمضان المبارک کا آغاز ہوا جو 13 مئی تک جاری رہے گا ۔ 21 اپریل کو سری رام نومی تہوار منایا جائے گا اور اس کے بعد 27 اپریل کو ہنومان جینتی ہے چونکہ ان تمام تہواروں میں ایسی تقاریب ہوتی ہیں جن میں لوگ زیادہ تعداد میں حصہ لیتے ہیں اور لوگوں کا مجمع ہوتا ہے ۔ چنانچہ ریاستی حکومت کی جانب سے کوویڈ 19 کیسیس میں مزید اضافہ کو روکنے کے لیے حکمت عملی اقدامات کئے جارہے ہیں اور اس بات کو یقینی بنانے پر توجہ دی جارہی ہے کہ اس میں بڑی تعداد میں لوگ ایک جگہ جمع نہ ہوں ۔ یہاں یہ تذکرہ کیا جاتا ہے کہ وزیر صحت ایٹالہ راجندر نے حال میں کہا تھا کہ حکومت کو دوسری لہر کی توقع نہیں تھی لیکن کیسیس میں تیزی سے اضافہ پر حکومت نے مقدس مقامات پر لوگوں کے بڑی تعداد میں جمع ہونے پر تحدیدات عائد کئے ہیں ۔ حکومت کی جانب سے کی جارہی کئی اپیلیں اور ماسک کا استعمال نہ کرنے والے موٹر سٹس پر پولیس کی جانب سے جرمانہ عائد کرنے کے باوجود کوویڈ قواعد پر عمل کرنے والوں کی تعداد 45 فیصد سے زیادہ نہیں ہوئی ہے ۔ اس صورتحال میں اور آئندہ ایک ماہ طویل عید و تہوار کی تقاریب کے پیش نظر پولیس اور بلدی عہدیداروں کا احساس ہے کہ انہیں صحت کے اصولوں پر سختی کے ساتھ عمل آوری کو لاگو کرنے کی ضرورت ہے ۔ لوگوں کو سماجی فاصلہ کی برقراری ، تقاریب میں محدود تعداد میں شرکت ، ماسک لگانے اور ہینڈ سنیٹائزرس جیسے سیفٹی اصولوں کو اپنانے کی ترغیب دی جارہی ہے ۔ عہدیداروں نے کہا کہ اتھارٹیز نے مسلم مذہبی رہنماؤں سے کہا ہے کہ رمضان کے دوران مساجد میں بڑے مجمع کی اجازت نہ دی جائے ۔ عہدیداروں نے مقامی قائدین اور ارکان اسمبلی سے بھی کہا ہے کہ وہ سماجی فاصلہ کی برقراری کی اہمیت سے عوام کو واقف کروائیں اور افطار پارٹیوں سے گریز کریں ۔۔