حیدرآباد: ڈاکٹر ریشس ایلا صدر بزنس ڈیولپمنٹ و انٹرنیشنل ایڈوکیسی بھارت بائیوٹیک نے کہا ہے کہ کمپنی کو یکم جون سے شروع ہونے والے بچوں پرکوویکسین کے تجربہ کی اجازت حاصل ہوگئی ہے۔’’ تمام باتیں ٹیکہ سے متعلق‘‘کے موضوع پر حیدرآباد میں ہفتہ کی شب فکی لیڈیز آرگنائزیشن کی جانب سے منعقدہ ورچول تبادلہ خیال کے دوران انہوں نے کہا کہ 2تا18برس کے بچوں پر دواوں کا تجربہ کیاجائے گا۔انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ بھارت بائیوٹیک کی بچوں پر تجربہ کی ویکسین کو جاریہ سال کے تیسرے سہ ماہی میں لائسنس مل جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس ٹیکہ کے بعض ذیلی اثرات عام ہیں اور ان کے سبب ٹیکہ لینے سے کسی کو روکا نہیں جاسکتا۔ ڈاکٹر پرگنیا چیگورپٹی کنسلٹنٹ ، بریسٹ آنکالوجی اینڈ اونکوپلاسٹک سرجن جو اس ٹاک کی ماڈیٹر تھیں کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر آپ جسم میں خالص پانی کو انجکشن کے ذریعہ چھوڑتے ہیں تو اس سے بعض ذیلی اثرات ہونے کا خدشہ ہے یہ جسم کی حیاتیاتی نوعیت ہے ۔اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو آپ کے جسم میں مسائل پیداہوں گے ۔ انہوں نے اس ٹیکہ کے تعلق سے توہمات سے پیدا ہونے والی ہچکچاہٹ کو دور کیا اور کہا کہ ٹیکے محفوظ ہیں اور ہر کوئی ٹیکے لے سکتا ہے ۔انہوں نے کہا ’’مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہورہی ہے کہ ہماری سخت محنت کا بہتر نتیجہ نکلا ہے اور اس کے ذریعہ زندگیوں کو بچایاجارہا ہے ۔ہم ہردن گھر سے کام سے نکلتے ہوئے اس اچھی بات کا احساس کررہے ہیں۔ہم جاریہ سال کے اواخر تک تیاری کی گنجائش میں اضافہ کرتے ہوئے 700ملین ڈوز کردیں گے ۔ہم کو حکومت سے مکمل حمایت مل رہی ہے اسی کی وجہ سے ہم اس سفر میں یہاں ٹہرے ہوئے ہیں۔اس ٹیکہ کو آئی سی ایم آر کے ساتھ مل کر ہم نے تیار کیا ہے ۔حکومت نے 1500کروڑروپئے کے پیشگی آرڈر دیا ہے ۔اس سے خطرہ اٹھانے کی ہمارے کوشش میں اضافہ ہوا ہے ۔ہم بنگالورو اور گجرات کے یونٹس میں توسیع کررہے ہیں‘‘۔