امریکی سفیر کے ساتھ بات چیت میں معتمد خارجہ نے مسئلہ اٹھایا ۔ فوری ٹھوس تیقن دینے سے امریکی حکومت کا گریز
نئی دہلی : ہندوستانیوں میں جنہوں نے کوویگزین کورونا ٹیکہ لیا ہے ، اس تعلق سے تشویش بڑھتی جارہی ہے کہ آیا بیرون ملک سفر کیلئے اسے مسلمہ تسلیم کیا جائے گا یا نہیں ۔ امریکہ جانے والے ہندوستانی طلبہ میں تشویش مزید زیادہ ہوگئی ہے کیونکہ بھارت بائیوٹیک کووڈ۔19کی اس ویکسین کیلئے ڈبلیو ایچ او کی منظوری باقی ہے۔ اس لئے انہیں امریکہ میں اپنے کیمپس پر دوبارہ ویکسین لینا پڑسکتا ہے ۔ معتمد خارجہ ہرش وردھن شرنگلا نے آج کارگذار امریکی سفیر ڈینیل اسمتھ کے ساتھ بات چیت میں یہ مسئلہ اٹھایا ۔ ذرائع نے بتایا کہ امریکی کی طرف سے کوئی واضح جواب نہیں ملا ہے کیونکہ یہ معاملہ الگ الگ یونیورسٹی سے متعلق ہے ۔ تاہم سفیر اسمتھ نے ہندوستان کا نقطہ نظر آگے بڑھانے اور طلبہ کی تشویش سے واقف کرانے کا وعدہ کیا ہے ۔ کوویگزین کے تیسرے مرحلے کے ٹرائیل کے نتائج کا بھی انتظار ہے ۔ بھارت بائیوٹیک موجودہ طور پر اپنے تیسرے مرحلے کا ٹرائیل جاری رکھے ہوئے ہے اور وہ اپنا ڈاٹا جولائی میں شائع کرے گا ۔ جس کے بعد وہ کو ویگزین کیلئے مکمل لائسنس کی درخواست دے گا ۔ بھارت بائیوٹیک کے نمائندوں کے ساتھ مئی میں بین ریاستی اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں ڈبلیو ایچ او کی منظوری کے معاملہ پر غور کیا گیا ۔ اس وقت کمپنی نے حکام کو بتایا تھا کہ وہ 90فیصد دستاویزات پیش کرچکے ہیں اور بقیہ جون میں داخل کردیئے جائیں گے ۔ یو ایس سی ڈی سی کے رہنمایانہ خطوط میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ لوگوں کو جب تک ویکسین کے دو ڈوز نہیں لیتے ، ویکسین سے فارغ نہیں سمجھا جائے گا ۔ انہیں فائزر یا ماڈرنا ویکسین لینا ہوگا ۔ ابتدائی ڈوز کیلئے جانسن اینڈ جانسن کمپنی جانسن ویکسین بھی لی جاسکتی ہے ۔ ان قواعد کے مطابق کوویگزین فی الحال امریکی کسوٹی پر پوری نہیں اترتی ۔ اس لئے انڈین اسٹوڈنٹس کو امریکہ میں اُن کے کیمپس میں داخل ہونے سے روکا جاسکتا ہے ۔ انہیں سفر سے 72گھنٹے پہلے منفی یا نگیٹیو آر ٹی پی سی آر رپورٹ پیش کرنا ہوگا ۔