حیدرآباد گن کلچر میں تبدیل، ماضی کے ڈاکوؤں کی عدم گرفتاری، نئے ڈاکوؤں کو پکڑنے پولیس سرگرداں
محمد علیم الدین
حیدرآباد۔ 31 جنوری (سیاست نیوز) شہر کے علاقہ کوٹھی میں پیش آئے فائرنگ کے واقعہ نے افضل گنج واقعہ کی یاد تازہ کردی۔ ایک سال کا عرصہ گذرنے کے بعد بھی افضل گنج واقع میں ملوث خاطیوں کو پولیس گرفتار کرنے میں ناکام رہی جو ایک اے ٹی ایم سے بھاری رقم لوٹنے کے بعد حیدرآباد آئے تھے اور حیدرآباد سے شمالی ہند کا سفر کرنے کی تیاری میں تھے۔ خانگی بس ٹراویلس کے عملہ کی جو کسی سے ان ڈاکوؤں کا پردہ فاش ہوا تھا تاہم وہ بڑی آسانی سے شہر پار کر گئے جس کا آج تک کوئی پتہ نہ چل سکا۔ فائرنگ کے بعد
بذریعہ سڑک ایک کے بعد ایک آٹو بدل کر شہر کی چوکس پولیس کی آنکھ میں دھول جھونک افضل گنج کے خاطی فرار ہوگئے جو آج تک لاپتہ ہیں جبکہ آج صبح کوٹھی میں پیش آئے فائرنگ کے واقعہ میں ملوث ڈاکوؤں کو پولیس گرفتار کرنے میں مصروف ہے اور اس کے لئے 5 ٹیموں کو تشکیل دیا گیا ہے۔ حیدرآباد سٹی پولیس کی جانب سے ان ڈاکوؤں کو بہت جلد گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ شہر حیدرآباد میں پیش آئے اس واقعہ سے شہریوں میں خوف و دہشت پیدا ہوگئی اور بڑھتے گن کلچر سے سلامتی خطرہ میں پڑ سکتی ہے۔ شمالی ہند ریاسوں کے انداز اور جرائم کے رجحان سے شہر کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہونے کا شہری خوف جتا رہے ہیں۔ ایک طویل عرصہ تک اس طرح کے واقعات سے پاک حیدرآباد کو نہ جانے کس کی نظر لگی جو چند عرصہ سے بے چینی اور اضطراب کے ماحول میں گھر گیا ہے اور ایسے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں جو شائد کسی سازش کا حصہ ہوسکتے ہیں جنہیں شہریوں نے بھلا دیا تھا۔ تشدد، بے چینی، خون ریزی، ڈکیتی، سرقہ، رہزنی، فرقہ واریت، نشہ، دھوکہ دہی، اب شہر میں عام جرائم کے زمرہ میں شامل ہوگئے اور دن بہ دن شہر کے امن و ضط کی صورتحال ایسا ظاہر ہورہا ہے پولیس کے کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے۔ پولیس کو چاہئے کہ وہ جرائم پر قابو پانے کے موثر اقدامات کو انجام دیں۔ آج صبح فائرنگ واقعہ کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں تلاشی مہم چلائی گئی جس میں کئی ایک شہریوں کو ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ کوٹھی فائرنگ واقعہ میں ملوث افراد کی گوری گرفتاری پولیس کے لئے ایک چیالنج بن گیا ہے۔ ع