بہتری کیلئے چار ہفتے کی مہلت، نومولود بچوں کو حوالے کرنے بھاری رقم کا مطالبہ
حیدرآباد۔11 ۔ فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے کوٹھی گورنمنٹ میٹرنٹی ہاسپٹل میں علاج کی ابتر صورتحال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سکریٹری صحت سید علی مرتضیٰ رضوی کو ہدایت دی کہ اندرون 4 ہفتے ہاسپٹل کے انتظامات بہتر بناتے ہوئے عدالت میں رپورٹ پیش کریں۔ چیف جسٹس ستیش چندر شرما اور جسٹس ابھینند کمار شاولی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے کہا کہ اگر صحت کا کوئی مسئلہ ہو تو آپ اور میں اپولو یا ایشین انسٹی ٹیوٹ آف گیسٹرو جیسے دواخانوں سے رجوع ہوتے ہیں۔ آپ کے اور ہمارے لئے کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن غریبوں کا کیا ہوگا جو سڑکوں پر مر رہے ہیں۔ ڈیویژن بنچ مفاد عامہ کی درخواست کی سماعت کر رہا تھا جو 6 سال قبل داخل کی گئی تھی جس میں کوٹھی میٹرنٹی ہاسپٹل میں مریضوں کی ابتر صورتحال کا ذکر کیا گیا تھا۔ ڈیویژن بنچ نے کے کرن مائی کو نمائندہ کے طور پر مقرر کرتے ہوئے انہیں ہاسپٹل کا دورہ کرنے اور آزادانہ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی تھی۔ کرن مائی نے گزشتہ سال 30 ڈسمبر اور جاریہ سال 8 فروری کو ہاسپٹل کا دورہ کرتے ہوئے کئی اہم خامیوں کی نشاندہی کی۔ انہوں نے بتایا کہ ہاسپٹل میں منظورہ 244 جائیدادوں میں 157 مخلوعہ ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹرس ، نرسس اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے بشمول جملہ 87 افراد کا عملہ ہے۔ گزشتہ 47 برسوں سے دواخانہ میں بستروں کی تعداد 160 برقرار ہے اور کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ۔ رپورٹ کے مطابق ہاسپٹل کے دو بلاکس ہیں اور دونوں پانچ منزلہ ہیں لیکن کئی منزلیں استعمال میں نہیں ہیں۔ ایک بلاک میں صرف دو فلور استعمال میں ہیں اور دیگر تین فلور خالی ہیں۔ کرن مائی کی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا کہ ہاسپٹل کا اسٹاف نو مولود بچوںکو ماؤں اور رشتہ داروں کو لیبر روم کے پاس حوالے کرنے کیلئے 5 تا 10 ہزار روپئے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ہاسپٹل کی صفائی اور دیگر انتظامات کے بارے میں رپورٹ میں شکایت کی گئی کہ مریضوں کے رشتہ داروں سے صفائی کے کام کیلئے رقم طلب کی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہاسپٹل کا نائیٹ شیلٹر مقفل ہے اور مریضوں کے تیمارداروں کو قیام کی کوئی سہولت نہیں۔ ڈیویژن بنچ نے حکومت سے کہا کہ بہتر انتظامات سے متعلق دعوے محض دکھاوا ہے۔ ہیلت سکریٹری کی جانب سے سرکاری وکیل نے حلفنامہ داخل کیا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے دعوے حقیقت سے بعید ہیں۔ عدالت نے کہا کہ پرنسپل سکریٹری کو چاہئے کہ وہ نقائص کو فوری دور کریں ۔ سرکاری وکیل نے جواب داخل کرنے کیلئے مزید وقت مانگا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کے تمام جواب پانچ سال پرانے ہیں اور تازہ صورتحال کی کوئی عکاسی نہیں ہوتی۔ ر