کوٹہ کونڈہ کو منڈل بنانے کے مطالبہ میں شدت، دھرنا اور احتجاجی جلسہ

   

رکن اسمبلی نارائن پیٹ راجندر ریڈی پر شدید تنقید، عوام کے مسائل سے عدم دلچسپی کا الزام، مختلف قائدین کا خطاب

نارائن پیٹ ۔ 18 اگست (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) نارائن پیٹ منڈل کے موضع کوٹہ کونڈہ کو منڈل بنائے جانے کا مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے۔ موضع کوٹہ کونڈہ و اطراف مواضعات کے عوام نے اپنے دیرینہ مطالبہ کی تکمیل کے لئے غیر معینہ مدت (مطالبہ کی تکمیل) تک زنجیری بھوک ہڑتال کیمپ کا مستقل قیام عمل میں لایا ہے۔ چنانچہ آج اپنے مطالبہ اور ہڑتال کے 100 دن مکمل ہونے پر نارائن پیٹ ضلع مستقر کے تلنگانہ چوک پر کل جماعتی دھرنا اور احتجاجی جلسہ عام کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں تمام اپوزیشن جماعتوں کے قائدین اور نمائندوں نے شرکت کرتے ہوئے کوٹہ کونڈہ کو منڈل کا درجہ دینے کے مطالبہ کی بھرپور تائید و حمایت کی۔ اس موقع پر اپوزیشن قائدین نے رکن اسمبلی نارائن پیٹ ایس راجندر ریڈی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں عوام کی پرواہ نہیں ہے۔ وہ اپنے حلقہ کے عوام ے مسائل کو دیکھنے اور ان کو سمجھنے اور اس کو حل کرنے سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتے، اور پڑوسی ریاست کرناٹک کے شہر رائچور میں اپنے آپ کو بنگلہ اور کاروبار تک محدود کررہے ہیں۔ کوٹہ کونڈہ کے عوام 100 دن سے احتجاج پر ہیں لیکن ایک دن بھی رکن اسمبلی نے عوام کے آنسو پوچھنے اور ان کی بات سننے کے لئے نہیں آئے۔ نارائن پیٹ ضلع دیگر دو مقامات کا نکرتی اور گارلاپاڑو کے عوام بھی اپنے اپنے مقامات کو منڈل بنائے جانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر ان تین مقامات کے عوام حیدرآباد میں بھی دھرنا پروگرام منظم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام راجندر ریڈی کو اگر وہ کوٹہ کونڈہ کو منڈل نہیں بنانا چاہتے ہیں تو انہیں انتخابات میں سبق سکھائیں گے۔ انہیں اس کا جواب عوام کے سامنے آکر دینا ہوگا۔ عوام پہلے ہی ان سے شدید طور پر ناراض ہیں۔ وہ اپنے کیمپ آفس میں ایک فرد سے بھی ملنے کا موقع نہیں فراہم کرتے۔ لوگوں کی تکالیف کو نظرانداز کرتے ہوئے روزانہ رائچور جاتے ہیں۔ ایک دن بھی یہاں شب بسری نہیں کرتے۔ وہ عوام کے مسائل سے واقفیت حاصل کرنا نہیں چاہتے۔ اس احتجاجی دھرنے اور جلسہ عام میں ریاستی قائدین بی رامو (سی پی آئی (ایم ایل)، وینکٹ رام ریڈی، ناگوراؤ ناموجی (بی جے پی) کوٹہ کونڈہ منڈل سادھنا سمیتی کنوینر رامو نائک، پرجاپنتھا ضلعی قائدین، محمد سلیم، بالا راؤ، گاؤں کی سرپنچ شریمتی جیالکشمی، ایم پی ٹی، انسویا و دیگر قائدین اور عوام کی کثیر تعداد شریک تھی۔