کوٹہ کی حد 50% پر مکرر غور کرنے سپریم کورٹ کا اتفاق

   

نئی دہلی : اندرا ساہنی فیصلہ کے لگ بھگ تین دہوں بعد سپریم کورٹ نے آج کہا کہ 1992ء نے 9 ججوں کی بینچ نے ریزرویشن کے معاملے میں 50% کی بالائی حد کے تعلق سے جو فیصلہ جاری کیا تھا۔ اس پر مکرر غور کیا جاسکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ نظرثانی مابعد پیش آئے دستوری ترامیم اور سماجی و معاشی تبدیلیوں کے تناظر میں ہوسکتی ہیں۔ جسٹس اشوک بھوشن کی قیادت والی بینچ نے تمام ریاستی اور مرکزی زیرانتظام علاقوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے استفسار کیا ہے کہ آیا ریزرویشن کو 50% کی حد سے تجاوز کرنا چاہئے۔ عدالت نے اس معاملے میں مرکز کے معاشی کمزور طبقے میں کوٹہ سے متعلق ترمیم کے بارے میں بھی رائے طلب کی ہے۔ اس بینچ نے جسٹس ایل ناگیشور راؤ ، جسٹس ایس عبدالنذیر، جسٹس ہیمنت گپتا اور جسٹس ایس رویندر بھٹ شامل ہیں۔ بینچ نے کہا کہ ریاستوں کو ان کی رائے پیش کرنے کیلئے مناسب موقع دینا ہوگا۔ یہ نوٹس مراٹھا ریزرویشن کے موقف کو چیلنج کرنے والی مختلف عرضیوں کی سماعت کے دوران جاری کی گئی ہے۔ فاضل عدالت نے کہا کہ یہ معاملہ محض کوئی ایک ریاست تک محدود نہیں ہے، اس لئے دیگر ریاستوں کی رائے جاننا بھی ضروری ہے، کیونکہ عدالت کے فیصلے کے اثرات ان پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔