کوچی کے فنکاروں کا سڑکوں کی خرابی کیخلاف احتجاج

,

   

کوچی ۔ 28 ۔ ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) کڈھوں اور گڑھوں سے بھری سڑکوں سے نجات کی جب کوئی صورت نہیں رہی تو کوچی کے چند رہنے والوں نے شہر کے باب الداخلہ ٹول پلازاکے سامنے 17 ستمبر کو اکٹھا ہوگئے تاکہ حکومت کی بے حسی کے خلاف احتجاج کیا جاسکے ۔ زیر بحث دراصل نیشنل ہائی وے 66 ہے جس کے استعمال کرنے پر باقاعدہ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے لیکن اس کے با وجود بھی کڈھوں اور گڑھوں کو کبھی بند نہیں کیا گیا ۔ کوچی شہر کے ممتاز ڈی جے سیودو جوزف نے مزید چند مقامی حضرات کے ساتھ جن میں گوری لکشمی بھی شامل ہیں ، یہاں جمع ہوکر فیصلہ کیا کہ دوستوں کی مدد سے اس جگہ احتجاج کیا جائے ۔ سیویو جوزف نے بتایا کہ ’’یہ احتجاج عوامی ہے اور عوام کیلئے ہے‘‘۔ ہم اس شاہراہ کا 15 برس سے ٹیکس ادا کرتے آرہے ہیں اور ہم ٹول (جنگی) بھی دیا کرتے ہیں لیکن ہمارے ہاں کی سڑکیں ٹھیک نہیں ہیں۔ ایڈا پلی چنگی (Toll) سے ارور (چنگی) تک ہمیں ٹریفک اژدھام سے نکلنے کیلئے کم سے کم دو گھنٹے انتظار کرنا ہوتا ہے ۔ احتجاج کرنے والوں نے فیصلہ کیا کہ وہ خود ’’انسانی پلے کارڈ‘‘ میں تبدیل ہوجاتے ہیں اور انہوں نے ایک گانا ’’ہمیں اچھی سڑکوں کی ضرورت ہے‘‘ گانا شروع کردیا ۔ مظاہرہ میں موجود ہر شخص نے کہا کہ ’’ ٹیکس تو پابندی سے وصول کئے جاتے ہیں، مگر ان کا اچھا استعمال نہیں کیا جاتا۔ مظاہرے کی اکثریت سیکل راں حضرات پر مشتمل تھی ۔ انہوں نے پیدل چلنے والوں کے لئے محفوظ راستوں کا مسئلہ ا ٹھایا ۔ لورین ڈی کوسٹا نے کہا کہ ہم سیکل راں ہیں اور ہر روز ہم سیکل چلانے کی مشق کرتے ہیں۔ وائیٹلا سے کتے کڈا نور سیکل چلانا سخت مشکل ہے ، ہم سیکل کو یہاں سیدھا تک چلا نہیں سکتے کیونکہ یہاں کی سڑکوں میں بے شمار کھڈے ہیں، بلکہ کوئی سڑ ک ہی نہیں ہے، زیادہ تر کیچڑ اور ریت ہی ریت نظر آتی ہے ۔ بعض لوگوں نے بتایا کہ ٹریفک میں خلل دراصل گڑھوں کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے ۔ احتجاج کرنے والوں کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ ان سڑ کوں کی باقاعدہ دیکھ بھال کی جائے ۔ 4 ستمبر کو ضلعی کلکٹر ایس سوہاس نے اپنے فیس بک پر اس کے لئے ذمہ دار عہدیداروں کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ دو ہفتوں کی مدت میں ان سڑکوں کی مرمت کروادیں اور جو عہدیدار ایسا نہیں کریں گے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔