کوڑا کرکٹ کا انبار ، ناقص پانی کی سربراہی سے وبائی امراض میں اضافہ

   

سرکاری و خانگی ہاسپٹلوں میں مریضوں کا تانتا ، ہیلت کیمپس میں خصوصی علاج ، صاف ستھرا ماحول ضروری
حیدرآباد۔26ستمبر(سیاست نیوز) شہر میں منعقد کئے جانے والے میڈیکل اینڈ ہیلت کیمپ میں ہزاروں لوگ رجوع ہوتے ہوئے تشخیص کروا رہے ہیں اور یہی صورتحال پینے کے صاف پانی کے حصول کے لئے ہے۔ ہیلت کیمپوں سے ہزاروں افراد کا رجوع ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ شہر میں وبائی امراض کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور حکومت کی جانب سے وبائی امراض کو روکنے کے اقدامات ناکافی ثابت ہورہے ہیں اور خانگی دواخانو ںکی جانب سے مفت ہیلت کیمپ کے انعقاد کے ذریعہ شہریوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے ریاست میں وبائی امراض بالخصوص ڈینگو کے سلسلہ میں یہ کہا جا رہاہے کہ ریاست میں صحت عامہ کے سلسلہ میں کوئی ایسی سنگین صورتحال نہیں ہے کہ ہیلت ایمرجنسی کا نفاذ عمل میں لایا جائے لیکن ہیلت کیمپوں سے رجوع ہونے والوں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے ان علاقو ںکی صورتحال کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان علاقوں میں وبائی امراض کی حالت کیا ہے اور کس تیزی کے ساتھ وبائی امراض پھیل رہے ہیں۔دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے علاقوں میں وبائی امراض میں مبتلاء مریضوں سے دواخانے بھرے ہوئے ہیں اور حکومت کی جانب سے مریضوں کو معیاری علاج کی فراہمی میں ناکامی کے بعد اب خانگی دواخانوں کی جانب سے علاج و معالجہ کے علاوہ تشخیص کے لئے کیمپ لگائے جانے لگے ہیں جو کہ خوش آئند بات ہے لیکن ان کیمپوں میں پہنچنے والے ہزاروں افراد کی تعداد کو دیکھتے ہوئے اس بات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حالات کس حد تک سنگین ہیں اس کے باوجود ہیلت ایمرجنسی کے عدم نفاذ اور حکومت کی جانب سے مسئلہ کو غیر اہم تصور کئے جانے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاست میں حکمراں طبقہ کو صحت عامہ سے کوئی مطلب نہیں ہے۔ خانگی دواخانوں کی جانب سے منعقد کئے جانے والے ہیلت کیمپ سے رجوع ہونے والے مریضوں کی بڑی تعداد کو دیکھتے ہوئے یہ بھی کہا جا رہاہے کہ اگر ان علاقوں میں صفائی اور صاف پینے کے پانی کے انتظامات کو بروقت انجام دیا جاتا تو یہ صورتحال ہی پیدا نہیں ہوتی اور اس طرح کے میڈیکل کیمپ قائم کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی کیونکہ اگر صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے کے علاوہ شفاف پینے کے پانی کی فراہمی عمل میں لائی جائے اور کچہرے کی بروقت نکاسی کو یقینی بنایا جائے تو بیماریوں کو روکا جاسکتا ہے اور اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ ’’علاج سے بہتر احتیاط ہے‘‘ لیکن صاف ستھرا ماحول فراہم کرنا اور عوام کو پینے کا صاف پانی پہنچانا جن لوگوں کی ذمہ داری ہے اگر وہ اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار کرتے ہیں تو مریضوں کی تعداد میں کمی واقع نہیں ہوگی بلکہ اس تعداد میں اضافہ ہی ہوتا چلا جائے گا کیونکہ وبائی امراض پھیلنے کی بنیادی وجہ گندگی ہے اور گندگی کی صفائی مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے علاوہ عوامی نمائندوں کی کی ہے اور یہ لوگ مؤثر انداز میں اپنی ذمہ داری اداکرنے میں ناکام ہورہے ہیں جس کے نتیجہ میں میڈیکل کیمپوں سے ہزاروں مریض تشخیص کیلئے رجوع ہو رہے ہیں جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ صفائی عملہ اور منتخبہ نمائندے اپنی ذمہ داری کو نبھانے میں کس حد تک ناکام ہوچکے ہیں۔