ریونت ریڈی اسی حلقہ سے الیکشن لڑیں گے، آئندہ حکومت کانگریس کی ہوگی
حیدرآباد۔ 25 جنوری (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے کوڑنگل اسمبلی حلقہ سے مقابلہ کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ تلنگانہ میں آئندہ حکومت کانگریس کی ہوگی۔ ریونت ریڈی نے آج کوڑنگل اسمبلی حلقہ میں کانگریس کی ڈیجیٹل رکنیت سازی مہم میں شرکت کی۔ اس موقع پر مقامی کارکنوں کی جانب سے ریونت ریڈی کا شاندار استقبال کیا گیا کیونکہ وہ سابق میں اس اسمبلی حلقہ کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ کوڑنگل میں ہر الیکشن بوتھ پر 500 رکنیت سازی کرنے والے کارکنوں کو ریونت ریڈی نے تہنیت پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی انتخابات میں مقابلہ کے بارے میں کارکنوں کو الجھن کی ضرورت نہیں ہے اور وہ کوڑنگل اسمبلی حلقہ سے مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ کہ وہ پارلیمنٹ کے رکن ہیں لیکن خود کو کوڑنگل کے فرزند کے طور پر تصور کرتے ہیں۔ انہوں نے کوڑنگل میں 75 ہزار رکنیت سازی کا ریکارڈ قائم کرنے پر کارکنوں کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ریاست کے 119 اسمبلی حلقوں میں کوڑنگل سرفہرست ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کوڑنگل کے قائدین کی راہول گاندھی سے ملاقات کا اہتمام کریں گے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے ٹی آر ایس حکومت پر کسانوں، اقلیتوں، نوجوانوں اور پسماندہ طبقات سے دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو کانگریس نے 4 فیصد تحفظات فراہم کرتے ہوئے ہزاروں مسلم نوجوانوں کو ڈاکٹر اور انجینئر بننے کا موقع فراہم کیا لیکن کے سی آر نے 12 فیصد تحفظات کے وعدہ کو فراموش کردیا۔ کسانوں کو مفت برقی سربراہی اور قرض کی معافی کانگریس کا کارنامہ ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ 2009 میں کوڑنگل کے عوام نے انہیں پہلی مرتبہ منتخب کیا تھا اور وہ عوام کا قرض ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوزگی میں بس ڈپو اور مدور میں اسکول کی تعمیرکے لئے انہوں نے اپنے ذاتی اراضی حوالہ کی ہے۔ انہوں نے کوڑنگل کی ہمہ جہتی ترقی کے لئے فنڈس حاصل کرنے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ پینے کے پانی کی اسکیم کے لئے 350 کروڑ منظور کرائے گئے۔ کے ٹی آر نے کوڑنگل کو ترقی کے لئے اختیار کیا تھا لیکن ایک بھی اسکیم اور پراجکٹ شروع نہیں کیا گیا۔ انہوں نے ٹی آر ایس قائدین کو کوڑنگل کی ترقی کے مسئلہ پر کھلے مباحث کا چیلنج کیا۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ رکن اسمبلی کی حیثیت سے 9 برس کے دوران انہوں نے ایک شخص کے خلاف بھی مقدمہ درج نہیں کرایا۔ برخلاف اس کے موجودہ حالات میں کانگریس کارکنوں کے خلاف مقدمات درج کئے جارہے ہیں۔ ر