بیروت : لبنان میں ایک دس سالہ شامی بچے ’’حسین‘‘ کی تصویر نے سوشل میڈیا پر لوگوں کے دل پگھلا دیئے۔ تصویر دیکھ کر لوگوں کی جانب سے وسیع پیمانے پر ہمدردی دیکھنے میں آ رہی ہے اور وہ اس بچے کی مدد کیلئے اس کا پتہ معلوم کرنے کے خواہاں ہیں۔ تصویر میں یہ بچہ حسین کچرے کے ایک ڈرم میں بیٹھا نظر آ رہا ہے اور اس کے ہاتھوں میں کتاب ہے۔ یہ کتاب اس نے کچرے سے ہی نکالی تھی۔ حسین کی تصویر ایک نوجوان لبنانی انجینئر اور یونیورسٹی پروفیسر روڈرک مگامس نے اپنے کیمرے میں محفوظ کی۔ روڈرک نے حسین کو بیروت میں اپنے دفتر کے نزدیک دیکھا تو اس نے اس منظر کی تصویر لے لی۔روڈرک نے میڈیا کو بتایا کہ اس نے حسین کو 7 منٹ سے زیادہ وقت تک پورے شغف اور پیار کیساتھ کتاب کے صفحات پلٹتے ہوئے دیکھا۔