کوہلی۔روہت کا ناقص سیمی فائنل ریکارڈباعث تشویش

   

ممبئی ۔ ورلڈ کپ 2023 کا انتہائی متوقع دلچسپ پہلا سیمی فائنل صرف چند گھنٹے کی دوری پر ہے، جس میں کرکٹ پاور ہاؤسز ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ٹکراؤ ہوگا۔ لیگ مرحلے میں ہندوستان کی بے عیب کارکردگی کے باوجود اور تمام میچوں میں فتوحات حاصل کرنے کے باوجود ہندوستان کیلئے فائنل تک رسائی ایک مشکل سفر ہوسکتا ہے۔ اس چیلنج میں اہم کردار ادا کرنے والے اہم کھلاڑیوں روہت شرما اور ویراٹ کوہلی کی کارکردگی کے گرد گھومتا ہے، دونوں کو سیمی فائنل میں فتح حاصل کرنے اور ائنل میں آگے بڑھنے کے لیے ہندوستان کے لیے اپنی تاریخ کو دوبارہ لکھنے کی ضرورت ہے۔ تشویش کا مرکز روہت شرما اور ویراٹ کوہلی کی سیمی فائنلز میں بیٹنگ ہے۔ جاری ورلڈکپ میں کوہلی نے متاثر کن انداز میں 9 میچوں میں7 نصف سنچریوں سے زیادہ اسکور بنائے ہیں، جب کہ روہت شرما نے 4 مرتبہ 50 سے زیادہ کے اسکور بنائے ہیں۔ تاہم ایک اہم سوال بہت بڑا ہے، کیا یہ دونوں اسٹارس نیوزی لینڈ کے خلاف اہم سیمی فائنل میں اپنی شاندار کارکردگی جو جاری رکھیں گے یا تاریخ کا سیاہ سایہ انکا پیچھا کرے گا؟ کوہلی اور روہت شرما دونوں کے لیے ونڈے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں تاریخ مایوس کن ہے۔کوہلی رواں ٹورنمنٹ میں اپنی مسلسل فارم کے باوجود پچھلے ونڈے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں مشکلات کا سامنا کر چکے ہیں۔ تین سیمی فائنلز میں ان کا مجموعی اسکور محض11 رنز ہے جبکہ 2011 کے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں 9 رنز اور 2015 اور 2019 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں ایک ایک رن ہے ۔ اسی طرح روہت شرما کو ونڈے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں ایک ایسے ہی چیلنج کا سامنا کرنا پڑا ہے، وہ اب تک دو سیمی فائنلزکھیل چکے ہیں۔ ان اہم مقابلوں میں ان کے کل رنر35 ہیں، 2015 کے ورلڈ کپ سیمی فائنل میں 34 رنز اور 2019 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں ایک رن بنایا ہے۔ 2023 ورلڈ کپ میں ان کی شاندار فارم کے باوجود یہ سوال اب بھی موجود ہے کہ کیا روہت شرما اور ویراٹ کوہلی اپنی تاریخی سیمی فائنل کی پریشانیوں پر قابو پائیں گے اور ٹیم کو فائنل میں لے جائیں گے؟