نئی دہلی ۔ کہا جاتا ہے کیچ لو، میچ جیتو لیکن ایسا لگتا ہے کہ ویراٹ کوہلی صرف بیٹ سے میچ جیتنا جانتے ہیں کیونکہ وہ بین الاقوامی کرکٹ میں کیچ نہیں لے رہے ہیں۔ پچھلے 5 سال کے جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں اس میں کوہلی کی کارکردگی اس معاملے میں سب سے خراب ہے۔ اس عرصے کے دوران ان کا ریکارڈ دیگر ہندوستانی کھلاڑیوں کے مقابلے میں بدترین رہاہے۔ بین الاقوامی کرکٹ میں جس ڈیٹا کی بنیاد پر کوہلی پرکیچ نہ لینے کا الزام لگا رہے ہیں وہ سال 2019 سے اب تک کا ہے۔2019 سے اب تک کوہلی کیچ چھوڑنے کے معاملے میں پہلے نمبر پر رہے ہیں۔ یہ حالت کرکٹ کے تینوں فارمیٹس میں جاری ہے۔ اگر تینوں فارمیٹس میں گرائے گئے جملہ کیچزکو جوڑ دیا جائے تو جو اعداد و شمار سامنے آتے ہیں وہ کوہلی کے معیار سے میل نہیں کھاتے۔ یہ اعداد و شمار حیران کن ہیں۔ ویراٹ کوہلی نے 2019 سے بین الاقوامی کرکٹ میں جملہ 36 کیچز گرائے ہیں۔ اس عرصے کے دوران کیچز چھوڑنے کے معاملے میں اگر ہم دیگر ہندوستانی کھلاڑیوں کے گراف کو دیکھیں تو روہت شرما نے 33 کیچز چھوڑے ہیں اور وہ فہرست میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ میں گزشتہ 5 سالوں میں کوہلی اور روہت نے جملہ 69 کیچ چھوڑے ہیں۔ 2019 کے بعد سے محمد سراج نے بین الاقوامی کرکٹ میں 16 کیچز چھوڑے ہیں اور وہ تیسرے نمبر پر ہیں۔ چہل اس فہرست میں چوتھے نمبر پر ہیں جنہوں نے13 کیچز چھوڑے ہیں۔ وہیں شریاس ائیر 12کیچز چھوڑکر5 ویں نمبر پر ہیں۔ رویندرا جڈ یجہ اور شبمن گل ایسے کھلاڑی رہے ہیں جنہوں نے اس عرصے کے دوران سب سے کم کیچز چھوڑے ہیں۔ تینوں فارمیٹس کو ملا کر وہ صرف 11 کیچ گرائے ہیں۔ واضح رہے کہ کوہلی اور روہت شرما وہ دو ایسے کھلاڑی ہیں جنہوں نے گزشتہ 5 سالوں میں سب سے زیادہ کیچزگرائے ہیں۔ اگر ہم ان دونوں فارمیٹ کے لحاظ سے گرائے گئے کیچز کا موازنہ کریں تو ونڈے کے علاوہ باقی دو فارمیٹس میں کوہلی اس فہرست میں آگے کھڑے نظر آتے ہیں۔ کوہلی نے ٹسٹ میں 16 کیچ چھوڑے ہیں، جب کہ روہت نے اس فارمیٹ میں10 کیچ چھوڑے ہیں۔ کوہلی نے ٹی20 میں 13 کیچ چھوڑے، جب کہ روہت نے 9کیچ چھوڑے۔ ونڈے میں کوہلی نے صرف 7کیچ چھوڑے ہیں جبکہ اس فارمیٹ میں روہت کا ہندسہ کوہلی سے دوگنا یعنی 14 ہے۔