گوہاٹی۔ 4 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویراٹ کوہلی نے اس وقت ہندوستان میں ہورہے احتجاج اور شہریت ترمیمی قانون پر لب کشائی سے گریز کیا اور سوال کے جواب میں صرف اتنا کہا کہ مکمل معلومات کے بغیر وہ اس موضوع پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔ یاد رہے 2016ء میں کوہلی نے نوٹ بندی کو ہندوستانی سیاسی تاریخ کا عظیم ترین اقدام قرار دیا تھا جس کے بعد چاروں گوشوں سے ان پر شدید تنقید کی گئی تھی نیز عوام نے کوہلی پر تنقید کرتے ہوئے ان سے سوال کیا تھا کہ جب کسی موضوع پر معلومات نہ ہوں تو کوئی بیان نہ دیں۔ کوہلی نے شہریت ترمیمی قانون پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا حالانکہ یہ قانون افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان کے ہندو، سکھ، بدھسٹ، جین، پارسی اور عیسائیوں کو ہندوستان کی شہریت فراہم کرنے کیلئے بنایا گیا ہے اور اب وہ ہندوستان میں 12 سال کی رہائش کے بجائے 6 سال اگر سکونت اختیار کرچکے ہیں اور ان کے پاس کوئی مناسب دستاویزات بھی نہ ہوں تو بھی انہیں شہریت دی جائے گی۔ یہاں سری لنکا کے خلاف کھیلے جارہے پہلے ٹوئنٹی 20 مقابلے کے ضمن میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران سوال کا جواب دیتے ہوئے کوہلی نے کہا کہ میں اس موضوع پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا ہوں کیونکہ میں کوئی غیرذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہتا، کیونکہ اس موضوع پر فریقین کے اپنے خیالات ہیں۔ میں سب سے پہلے اس موضوع کا مکمل علم حاصل کرنا چاہتا ہوں جس کے بعد ہی اپنا موقف ظاہر کروں گا۔ ہندوستانی کپتان نے یہ واضح کردیا ہے کہ کسی بھی تنازعہ میں الجھنا نہیں چاہتے۔ گوہاٹی میں متنازعہ قانون کے خلاف کافی شدید احتجاج کیا جارہا ہے تاہم کوہلی نے ٹیم کیلئے فراہم کردہ سکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ کوہلی نے کہا کہ شہر بالکل محفوظ ہے اور ہم یہاں سڑکوں پر کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں دیکھ رہے ہیں۔
