کوہلی کو دولت اور شہر ت نے بدل دیا :مشرا

   

ممبئی ۔ ٹیم انڈیا کے سابق کپتان ویرات کوہلی نے اپنے بیٹ سے کئی بڑے ریکارڈ اپنے نام کیے ہیں۔ اپنی کپتانی سے انہوں نے ٹیم انڈیا کو بلندیوں تک پہنچایا ہے۔ ٹیم انڈیا میں فٹنس انقلاب لایا۔ جہاں کوہلی کی ہمیشہ اس سب کے لیے تعریف کی جاتی رہی ہے، وہیں ان کے ناقدین نے اکثر ان کے رویے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ میدان سے لے کر ڈریسنگ روم کے اندر تک کوہلی کے طریقے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ میڈیا میں اکثر ایسی خبریں آتی رہی ہیں کہ ان کی کپتانی کے دنوں میں وہ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے آسانی سے دستیاب نہیں تھے کیونکہ ابتدائی دنوں سے ہی ان کے رویے میں کافی تبدیلی آچکی تھی۔ اب ان کے ساتھ طویل عرصے تک کرکٹ کھیلنے والے ٹیم انڈیا کے ایک سابق کرکٹر نے بھی کھل کر یہ باتیں کہی ہیں۔ ہندوستانی ٹیم اور ڈومیسٹک کرکٹ میں ویرات کوہلی اور تجربہ کار لیگ اسپنر امیت مشرا نے دہلی کرکٹ ٹیم میں ایک ساتھ کئی میچ کھیلے۔ کوہلی سے بہت سینئر ہونے کی وجہ سے مشرا انہیں اپنے ابتدائی دنوں سے جانتے ہیں۔ ایسے میں انہوں نے نوجوان ویراٹ اور سوپر اسٹار بیٹرکپتان کنگ کوہلی کے درمیان فرق کو قریب سے دیکھا ہے۔ انہوں نے ایک حالیہ انٹرویو میں اس فرق پرکھل کر بات کی۔ ایک یوٹیوب چینل پر دیے گئے انٹرویو میں امیت مشرا نے روہت شرما اور ویرات کوہلی کی کپتانی اور رویے میں فرق کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتنے والے ہندوستانی کپتان روہت شرما کو اپنے قریب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی سب سے اچھی خاصیت یہ ہے کہ وہ اتنے ہی عظیم بیٹر اور کامیاب کپتان بننے کے بعد بھی اپنے کیریئر کے آغاز میں جیسے تھے ویسے ہی ہیں۔ مشرا نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ چاہے جونیئرکھلاڑی ہوں یا سابق کھلاڑی، وہ سبھی روہت کے اتنے قریب رہتے ہیں کیونکہ وہ سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرتا ہے۔ جب ویراٹ کوہلی کی بات آئی تو مشرا نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کہا کہ ٹیم انڈیا کے سابق کپتان کے بارے میں ایسا نہیں کہا جا سکتا کیونکہ وہ بہت بدل چکے ہیں۔ مشرا نے کہا کہ وہ کوہلی کو اس وقت سے جانتے ہیں جب وہ 12-13 سال کے تھے اور سموسے اور پیزا کھاتے تھے۔ مشرا نے کہا کہ اس وقت کے چیکو اور آج کے کوہلی میں بڑا فرق ہے اور وہ اب کوہلی سے مشکل سے بات کرتے ہیں۔41 سالہ لیگ اسپنر نے کہا کہ اس کے پیچھے شہرت اوردولت ہی بنیادی وجہ ہے کیونکہ اس وقت وہ کپتان بن چکے تھے اور جب اقتدار آتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ کوئی ان کے پاس صرف خود غرضی کی وجہ سے آرہا ہے۔یادرہے کہ کوہلی کو ہمیشہ ان جارحانہ رویہ کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔