پونے۔ اپنے ٹاپ آرڈر کیناقص مظاہروں کے ساتھ رائل چیلنجرز بنگلور (آر سی بی) کو اپنے مڈل آرڈر کی مضبوطی پر انحصار کرنا پڑرہا ہے اور خاص طور پر دنیش کارتک پر ٹیم کا زیادہ انحصار ہے انہیں ایم سی اے میں راجستھان رائلز کے خلاف منگل کو فتح دلانے کے لیے نئی حکمت عیلپ تیار کرنے کی ضرورت ہے اورٹیم کے ڈائریکٹر کرکٹ آپریشنز مائیک ہیسن نے تسلیم کیا کہ اس مسئلے کو فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔آرسی بی آئی پی ایل 2022 میں اب تک ان کی اچھی کارکردگی کے باوجود کمزور دکھائی دے رہا ہے، ویرات کوہلی اور انوج راوت بری طرح سے فارم سے باہر ہیں ، کپتان فاف ڈو پلیسی کے مظاہروں میں بھی استقلال کا فقدان ہے اور درمیانی اور نچلی صف انہیں مسائل کے علاوہ کچھ نتائج فراہم نہیں کررہی ہے۔لیکن ان شاذ و نادر مواقع میں سے ایک موقع پر جب مڈل آرڈر بھی بری طرح میں ناکام رہا، 23 اپریل کو برابورن میں سن رائزرز حیدرآباد کے خلاف ٹیم 16.1 اوور میں 68 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ پھر 12 اوورز باقی رہ کر نو وکٹوں سے حریف ٹیم نے کامیابی بھی حاصل کرلی تھی۔ہیسن نے کہا ہم نے مقابلے میں واپس آنے کے لیے جدوجہد کی۔سن رائزرس حیدرآباد نے ان حالات میں اچھی بولنگ کی۔جب آپ تین ابتدائی وکٹیں کھو دیتے ہیں، تو آپ ہمیشہ واپسی کی کوشش کرتے ہیں ۔ ہم پہلے ہی کئی بار ایسا کر چکے ہیں لیکن حیدرآباد کے خلاف ہم ایسا نہیں کرسکے ۔اس کے بعد ہیسن نے اپنی توجہ آرسی بی ؎کے ٹاپ آرڈر پر مرکوز کرتے ہوئے کہاٹاپ آرڈر نے ابھی تک کام نہیں کیا ہے۔ ہم اس کے بارے میں زیادہ سوچ نہیں رہے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اس ٹاپ آرڈر میں اعلیٰ معیار کے کھلاڑی ہیں۔ ایسا ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ہوتا ہے۔ ہم اس پر زیادہ نہیں سوچیں گے۔ہیسن نیکہا ہمارا مڈل آرڈر غیرمعمولی رہا ہے ، ہمیں راجستھان کے خلاف مقابلے میں مضبوط واپس آنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ ٹیم ٹورنمنٹ کے وسط میں اس طرح کے اسپیڈ بریکر کی متحمل نہیں ہوسکتی ہے۔ حیدرآباد کے خلاف شکست کے بعد ایسی کی صورت حال ہے اور اب کوہلی اور راوت کو پلیئنگ الیون سے باہر کرنے کے مطالبات بڑھ گئے ہیں، جبکہ ان کی جگہ ٹاپ آرڈر بلے باز رجت پاٹیدار اور آل راؤنڈر مہیپال لومرور کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ ایک مداح نے کہا کہ ٹیم کے پاس ابتدائی تین مقامات کیلئے ٹھوس کھلاڑی ہیں لیکن وہ فارم میں نہیں ہے لہذا ان فام کھلاڑیوں کو موقع دیا جانا ہوگا اور کوہلی اور انوج راوت کو ایک وقفے کی ضرورت ہے۔