عوامی مسائل اور کسانوں سے ناانصافی کا تذکرہ ، کوہیر تا حیدرآباد بس سرویس کے آغاز کا مطالبہ
کوہیر /28 ستمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) کوہیر منڈل پرجا پریشد کا سہ ماہی جنرل باڈی اجلاس کا دفتر منڈل پریشد میں کوہیر منڈل صدرنشین پی مادھوی کی زیر قیادت میں منعقد ہوا ۔ اس موقع پر محمد شاکر علی نائب صدرنشین کوہیر منڈل نے اجلاس میں بتایا کہ شادی مبارک ، کلیانہ لکشمی اور آدھار کارڈس میں ناموں کی تصحیح اور پتہ وغیرہ تبدیل کرنے کیلئے گزیٹیڈ آفیسر کی شہادت ( دستخط ) کی ضرورت پڑ رہی ہے ۔ درخواست گذاروں کو گزیٹیڈ آفیسر ( دستخط ) نہیں کرنے کی وجہ سے عوام کو شدید مصائب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے سرکاری عہدیداروں کو ایک سرکولر جاری کریں تاکہ غریب پریشان نہ ہوں اور اس موقع پر راج شیکھر وینکٹاپور سرپنچ نے اجلاس میں بتایا کہ موضع میں سروے نمبر 58 کی، 4 سو ایکر اراضی سے زائد اراضی کو حکومت نے فوڈ پروسینگ یونٹ کے قیام کیلئے الاٹ کی ہے جس میں ایس سی ایس ٹی بی سی طبقہ سے تعلق رکھنے والے کساونں کیاراضی سے 3 ایکر اراضی رکھنے والے کسانوں کو دو ایکر اراضی کی رقم دی جارہی ہے ۔ اس طرح کسانوں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کسانوں کو پٹہ پاس میں مبنی اراضی ہے ۔ اس اراضی کی قیمت دی جائے ایکر اراضی کی قیمت 15 لاکھ روپئے طئے کی گئی ہے ۔ اگرچہ کسانوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا تو وہ اس کے خلاف زبردست احتجاج کرتے ہوئے فوڈ پریسنگ کیلئے زمین نہیں دی جائے گی ۔ گذشتہ ایک سال سے محکمہ آر ٹی سی منڈل پریشد کے ایوان میں اراکین منڈل پریشد اور سرپنچوں کی جانب سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ 4 بجے شام کے اوقات میں کوہیر سے حیدرآباد کیلئے ایک ایکسپریس بس سرویسز کا آغاز کریں لیکن آج تک بھی عمل ندارد ہے ۔ آر ٹی سی کے خلاف ایوان میں زبردست ہنگامہ کیا گیا ہے اور اس موقع پر جگدیش ریڈی سرپنچ کویلی نے بتایا کہ کویلی چوراستہ کے علاوہ کویلی میں مشین بگھیرتا کا پانی نہیں آرہا ہے ۔ جبکہ حکومت تلنگانہ ہر گھر نل اور پانی سپلائی کرنے کا وعدہ کرتی ہے کئی دنوں سے متعلقہ محکمہ کو یادداشت حوالے کی جارہی ہے لیکن ان کے کان پرجوں تک نہیں رینگتی ۔ عوامی نمائندوں کی فریاد سننے والا کوئی نہیں ہے اور اس کے علاوہ اجلاس میں غیر حاضر ہونے والے اراکین کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا اراکین نے مطالبہ کیا ۔ اس موقع پر عابد طلعت ایم پی ٹی سی وارڈ نمبر 1 ، رمیش ، انیل کمار ، انیتا سرپنچوں کے علاوہ سرکاری عہدیدار موجود تھے ۔