کوہیر میں 80 اقسام کے ’’آم‘‘کی نمائش

   

لال مٹی کی ہر شئے مزیدار ہوتی ہے ۔ مانک راؤ اور محمد فریدالدین کا تاثر

کوہیر : ضلع سنگاریڈی کے کوہیر منڈل مستقر میں واقع قدیم بس اسٹانڈ پر 26 جون کو محکمہ اگریکلچر آفس کا افتتاح رکن اسمبلی ظہیرآباد کے مانک راؤ، محمد فریدالدین سابق ریاستی وزیر اور کوہیر سرپنچ عطیہ جاوید کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ اس موقع پر اگریکلچر آفس میں سلمان گارڈن ایئرفورٹس کوہیر کی جانب سے تقریباً 80قسم کے آم کے پھلوں کی نمائش کی گئی جس میں اعظم الثر، سلطان الثمر، لنگڑا، چوسہ، حمایت،جہانگیر، افیونی ، رستم، ہاتھی جول، چٹ پوٹی، مصری، رنگیلا، دلکش رس ملائی، لذیذ، مہک، راسیلہ، ملغوبہ، کالا پہاڑ، محمودہ، سرتاج، پاتاشاہ، غبارہ، کہے روبہ، سمرقند، ملکہ، گل نار کے علاوہ دیگر اقسام کے آم کی نمائش لگائی گئی تھی۔ اس موقع پر کے مانک راؤ رکن اسمبلی محمد فریدالدین نے بتایا کہ کوہیر ہمارے علاقہ میں اس طرح کے آم ہونا ریاست تلنگانہ کے لئے اعزاز ہے۔ تلنگانہ حکومت باغبانی کرنے والوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور کسانوں کو سبسیڈی کے ساتھ ہر ممکنہ تعاون کررہی ہے۔ کوہیر کا آم ملک کی دیگر ریاستوں میں پہونچنے کے اقدامات پر زور دیا تاکہ کوہیر کا نام ملک میں باغبانی سے پہچانا جاسکے۔ انھوں نے کوہیر میں واقع لال مٹی کی وجہ سے یہاں پر پیدا ہونے والے ہر شہ مزے دار ہوتی ہے۔ کوہیر اروک اور باغ زمانہ قدیم سے بہت زیادہ مشہور ہے۔ اس موقع پر حبیب سلمانی نے بتایا کہ یہاں سلمانی گارڈن میں تقریباً 400 اقسام کے آموں کی تحقیق کی جارہی ہے۔ پرانے قدیم آموں کی نسل زندہ رکھنے پر خاص توجہ دی جارہی ہے۔ انھوں نے مزید سلمانی گارڈن میں کالے اور سفید قسم کے نایاب شہتوت کے باغبانی بھی کی جاتی ہے۔ یہاں کے شہتوت اور آم حیدرآباد کے علاوہ دیگر مقامات تک سپلائی کئے جاتے ہیں۔ اس موقع پر کوہیر سیاسی قائدین کے علاوہ محکمہ زراعت اور ہارٹیکلچر کے عہدیدار موجود تھے۔