ملزمین کو گرفتار کرنے اور سخت سزا دینے مقتول کے رشتہ داروں کا مطالبہ
کوہیر یکم / فروری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) کوہیر کے ایک نوجوان کا حیدرآباد کے علاقہ حفیظ پیٹ میں بے رحمانہ قتل کیا گیا ، تفصیلات کے مطابق محمد انور عمر 27 سال ولد محمد عبدالجبار کی حفیظ پیٹ کی لڑکی شیرین بیگم ولد خواجہ میاں سے 3 سال قبل شادی ہوئی تھی ۔ وہ دونوں لااولاد تھے ۔ معاشی طور پر پریشان انور کوہیر میں آٹو چلاتے ہوئے اپنی زندگی گزار رہا تھا ۔ بیوی کی پریشانی کے سبب اپنے سسرال والوں سے 50 ہزار روپئے ادھار مانگا تھا وہ لوگ حیدرآباد میں کسی فینانسر کے پاس ان کی ضمانت پر قرض دئے تھے ۔ پیسے واپس نہ ہونے کی صورت میں فینانسر بار بار سسرال والوں کو پیسے کیلئے مطالبہ کر رہا تھا جس کی وجہ سے 31 جنوری کو ساس بیوی اور بھائی حیدرآباد سے کوہیر آکر تقریباً 3 بجے انور کو حیدرآباد لے گئے ان پیسوں کے مطالبہ کو لیکر رات میں بحث و تکرار ہوئی ۔ اس دوران بیوی کا بھائی احمد نے اپنے 3 دوستوں کے ہمراہ حیدرآباد واقع حفیظ پیٹ میں ہی کل رات دیر گئے مہلک ہتھیاروں سے مسلسل وار کرتے ہوئے انور کا قتل کرڈالا ۔ اس قتل پر انور کے ماں باپ اور رشتہ داروں کو اس بے رحمانہ قتل پر شکوک و شبہات ہیں ۔ انہوں نے یہ قتل پیسوں کیلئے نہیں بلکہ کسی اور وجہ سے کیا ہے ۔ آج صبح کی اولین ساعتوں میں متوفی انور کے والد کو کوکٹ پلی ہاوزنگ بورڈ پولیس اسٹیشن سے اطلاع آئی جس کے بعد افراد خاندان کے ہمراہ محمد افتخار احمد سابق صدر بی آر ایس پارٹی کوہیر ٹاون حیدرآباد روانہ ہوگئے ۔ نعش کو گاندھی ہاسپٹل منتقل کرتے ہوئے پوسٹ مارٹم کے بعد کوہیر لانے کیلئے انتظامات کئے ۔ اس موقع پر انہوں نے اس بے رحمانہ قتل کے مجرموں کو جلد آم جلد گرفتار کرتے ہوئے قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ کیا ۔