بی سی تحفظات پر کویتا کا جشن مضحکہ خیز، تہاڑ جیل میں رہ کر آخر کب جدوجہد کی، بی جے پی مخالف بی سی پارٹی
حیدرآباد۔ 12 جولائی (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ نے 42 فیصد بی سی تحفظات کے حق میں کانگریس حکومت کے فیصلے کے باوجود بی آر ایس صدر کے سی آر اور دیگر قائدین کی جانب سے خیرمقدم یا حکومت کی ستائش نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔ گاندھی بھون میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے 42 فیصد تحفظات کے لئے آرڈیننس کی اجرائی کو تاریخی فیصلہ قرار دیا اور کہا کہ بی سی طبقات کے حق میں غیر معمولی فیصلے کے باوجود کے سی آر خیرمقدم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن کے رویہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ سابق میں بی آر ایس نے پارلیمنٹ میں متعدد بلز کی منظوری میں مرکز کی بی جے پی حکومت کی تائید کی لیکن پسماندہ طبقات کے حق میں کئے گئے فیصلے پر کے سی آر لب کشائی کے لئے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن پارٹیوں کی بی سی طبقات کے ساتھ ہمدردی جھوٹی ثابت ہوچکی ہے۔ 10 سالہ اقتدار کے دوران بی آر ایس نے بی سی تحفظات میں اضافہ کے لئے کوئی مساعی نہیں کی اور اب جبکہ حکومت نے آرڈیننس کی اجرائی کا فیصلہ کیا ہے کویتا اسے اپنی کامیابی قرار دے رہی ہے۔ کویتا کا یہ دعویٰ مضحکہ خیز ہے اور عوام ان کے بیانات پر ہنس رہے ہیں۔ جس وقت کانگریس حکومت نے بی سی تحفظات فراہم کرنے کا عمل شروع کیا تھا اس وقت کویتا جیل میں تھیں۔ تہاڑ جیل میں موجود کویتا نے تحفظا میں اضافے کے لئے کب جدوجہد کی اس کی وضاحت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کویتا خود اس بات سے واقف نہیں ہیں کہ وہ ان دنوں کس پارٹی میں ہیں۔ ان کے بیانات سے اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ بی آر ایس میں ہیں۔ مہیش کمار گوڑ نے کویتا کے بیانات پر برہمی کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ کویتا حکومت پر تنقید سے پہلے اس بات کی وضاحت کریں کہ وہ کس پارٹی کا حصہ ہیں۔ بی آر ایس میں کے سی آر کے اطراف شیطانوں کی موجودگی کا بیان دینے والی کویتا نے آج تک ان ناموں کا انکشاف نہیں کیا جو کے سی آر کے اطراف ہیں۔ بی آر ایس میں شیاطین موجود ہیں یا چلے گئے اس کی وضاحت کویتا کرنی چاہئے۔ صدر پردیش کانگریس نے سوال کیا کہ بی آر ایس کے دور حکومت میں سماجی تلنگانہ کی تشکیل میں ناکامی پر کویتا نے بی آر ایس سے استعفی کیوں نہیں دیا؟ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ رنگ اور لباس تبدیل کرنے سے بلی شیر نہیں بن جاتی۔ بی سی تحفظات پر کویتا کی جانب سے جشن منانا مضحکہ خیز ہے۔ کانگریس نے جس وقت تحفظات کی مہم شروع کی تھی اس وقت شراب اسکام میں کویتا تہاڑ جیل میں تھیں۔ مہیش کمار گوڑ نے بی جے پی مخالف بی سی پارٹی قرار دیا اور کہا کہ ریاستی صدر کے عہدہ پر بی سی قائدین کو نظرانداز کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف کی فراہمی صرف کانگریس پارٹی سے ممکن ہے۔ 1