پارٹی کے نام میں لفظ تلنگانہ لازمی ہوگا ، مقابلہ کے لیے سدی پیٹ پہلی بودھن دوسری ترجیح
حیدرآباد ۔ 19 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ جاگرتی کی صدر و سابق ایم ایل سی کے کویتا نے اپنی نئی سیاسی جماعت کے قیام کی تاریخ کو حتمی شکل دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ مئی کے پہلے ہفتہ میں ایک موزوں دن کا انتخاب کرتے ہوئے پارٹی کا باضابطہ آغاز کریں گی ۔ انہوں نے ساتھ میں یہ بھی واضح کردیا کہ پارٹی کے نام میں لفظ ’ تلنگانہ ‘ لازمی طور پر شامل رہے گا ۔ اور جماعت نظریاتی بنیادوں پر قائم کی جائے گی ۔ آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ ان کی پارٹی افراد کے گرد نہیں بلکہ ایک مضبوط نظام اور واضح نظریے پر چلے گی ۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی جماعتیں عموماً لیڈر پر مرکوز ہوتی ہیں مگر وہ ایسا ڈھانچہ قائم کرنا چاہتی ہیں جو اصولوں پر مبنی ہو ان کی پارٹی سیاست میں خواتین کے احترام کو یقینی بنائے گی ۔ انتخابی حکمت عملی پر روشنی ڈالتے ہوئے کویتا نے کہا کہ وہ ریاست کے کسی بھی حلقے سے الیکشن لڑ سکتی ہیں تاہم ان کی پہلی ترجیح سدی پیٹ جب کہ دوسری ترجیح بودھن ہے ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی جماعت ایم پی ٹی سی ، زیڈ پی ٹی سی اور جی ایچ ایم سی انتخابات میں بھی حصہ لے گی اور آئندہ اسمبلی انتخابات میں برسر اقتدار آکر عوامی مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کرے گی ۔ کویتا نے اعتماد کے ساتھ کہا کہ مستقبل میں تلنگانہ میں بی جے پی اہم قوت نہیں رہے گی بلکہ ان کی جماعت مضبوط اپوزیشن کے طور پر ابھرے گی ۔ کانگریس حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت بی آر ایس کے راستے پر چل رہی ہے اور نئی سیاست متعارف کرانے میں ناکام رہی ہے ۔ کویتا نے واضح کیا کہ تلنگانہ مسئلہ ان کی پارٹی کی پہلی ترجیح ہوگا ۔ تاریخی مثال دیتے ہوئے انہوں نے این ٹی راما راؤ کا ذکر کیا جب انہوں نے پارٹی قائم کی تو نچلے درجہ کے کارکن بھی مرکزی وزیر بنیں ۔ ان کی جماعت نئی نسل کو آگے لانے اور نوجوان قیادت کو مواقع فراہم کرنے کیلئے کام کریگی ۔۔ 2