کویتا کا ملکارجن کو مکتوب مضحکہ خیز: مہیش کمار گوڑ

   

چیف منسٹر کے چیلنج کو قبول کرلینے کا ہریش راؤ کو مشورہ
حیدرآباد ۔ 3 ۔ جولائی (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی بی مہیش کمار گوڑ نے تلنگانہ سے پانی کے معاملہ میں ہونے والے ناانصافیوں کے لئے سابقہ چیف منسٹر کے سی آر اور اس وقت کے وزیر آبپاشی ہریش راؤ کو ذمہ دار قرار دیا۔ آج گاندھی بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کے چیلنج کو قبول کرلینے کا ہریش راؤ کو مشورہ دیا۔ کانگریس حکومت بنکا چرلا پراجکٹ کے معاملہ میں اسمبلی اجلاس کے دوران تمام ثبوت پیش کرنے کیلئے تیار ہیں ۔ بی آر ایس کے دور حکومت میں صرف سرکاری خزانہ کو لوٹ کھسوٹ ہوئی ہے۔ کمیشن کی خاطر بار بار آبپاشی پراجکٹس کے منصوبوں میں تبدیلی کی گئی ہے۔ کے سی آر نے پڑوسی ریاست آندھراپردیش کے سابقہ دو چیف منسٹرس چندرا بابو نائیڈو اور جگن موہن ریڈی سے خفیہ ساز باز کرتے ہوئے آبپاشی پراجکٹس کے معاملہ میں تلنگانہ کو نقصان پہنچانے کے معاہدہ کئے گئے۔ کانگریس حکومت تلنگانہ کے ساتھ ہونے والے کسی بھی نقصان کو برداشت نہیں کرے گی۔ اولین ترجیح تلنگانہ کے مفادات کو دے گی۔ کانگریس حکومت کے دباؤ کی وجہ سے مرکزی حکومت نے بنکا چرلا پراجکٹ کی تعمیرات میں رکاوٹ پیدا کی ہے۔ مہیش کمار گوڑ نے بی آر ایس کے ایم ایل سی کویتا کی جانب سے کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے کو بی سی تحفظات کے بارے میں تحریر کردہ مکتوب کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ میں بی آر ایس کو بات کرنے کا اخلاقی حق بھی نہیں ہے ۔ بی آر ایس کے دور حکومت میں ہی مقامی اداروں میں بی سی تحفظات کو گھٹاکر 21 فیصد تک کردیا گیا تھا۔ کانگریس حکومت نے انتخابی وعدہ کے مطابق بی سی تحفظات کو 42 فیصد تحفظات فراہم کرنے کی اسمبلی میں قرارداد منظور کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو روانہ کیا ۔ ریاست تلنگانہ میں بی سی طبقات کی 56 فیصد آبادی ہے۔ باوجود اس کے بی آر ایس پارٹی نے آج تک بی سی طبقہ کو بی آر ایس کا صدر نہیں بنایا۔ کانگریس پارٹی سے ہی بی سی طبقات کی ترقی ممکن ہے ۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے کہا کہ کانگریس حکومت پارٹی کے انتخابی منشور میں کئے گئے تمام وعدوں کو پورے کر رہی ہے۔ 9 دنوں کے دوران کسانوں کے بینک کھاتوں میں 9000 کروڑ روپئے جمع کئے گئے۔2