کویتا کے رائے دہی میں حصہ لینے پر کانگریس کا اعتراض

   

نظام آباد میں نام درج ہونے کی شکایت پر ٹی آر ایس کی وضاحت

حیدرآباد: ٹی آر ایس کی رکن قانون ساز کونسل کے کویتا کی جانب سے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن چناؤ میں حق رائے دہی سے استفادہ پر تنازعہ پیدا ہوچکا ہے۔ کانگریس پارٹی نے نظام آباد اور حیدرآباد دونوں مقامات پر رائے دہی میں حصہ لینے پر اعتراض جتایا ہے۔ کانگریس پارٹی کی ترجمان اندرا شوبھن نے اس سلسلہ میں اسٹیٹ الیکشن کمیشن سے نمائندگی کی ہے۔ جوبلی ہلز ڈیویژن میں کویتا نے ووٹ کا استعمال کیا۔ اندرا شوبھن نے کہاکہ دو مقامات پر رائے دہی میں حصہ لینا قواعدکی خلاف ورزی ہے ، لہذا کویتا کو قانون ساز کونسل کی رکنیت سے برطرف کیا جائے۔ اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں کویتا نے بودھن کے پوتنگل پولیس اسٹیشن میں ووٹ کا استعمال کیا تھا۔ اندرا شوبھن نے الیکشن کمیشن کو دستاویزی ثبوت پیش کیا جس میں کویتا پوتنگل سے رائے دہندہ ہے اور ان کا نام فہرست رائے دہندگان میں موجود ہے۔ بودھن میں نام کی موجودگی کے باوجود حیدرآباد میں رائے دہی میں حصہ لینا قواعد کے خلاف ہے۔ اسی دوران ٹی آر ایس نے وضاحت کی ہے کہ کویتا نے نظام آباد ضلع کے نوی پیٹ منڈل کے پوتنگل موضع میں اپنے اور اپنے شوہر کے ناموں کو حیدرآباد کے خیریت آباد اسمبلی حلقہ میں منتقل کرنے کی درخواست دی ہے۔ وی آر او کو درخواست دی گئی اور 28 نومبر کو نام پوتنگل سے حیدرآباد منتقل کرنے کی کارروائی مکمل ہوگئی جس کے بعد ہی کویتا نے حق رائے دہی سے استفادہ کیا ۔ ٹی آر ایس ذرائع نے بتایا کہ پوتنگل میں کویتا کا نام فہرست رائے دہندگان سے خارج کردیا گیا ہے جبکہ نیشنل سرویس ووٹرس فہرست سے یہ نام اندرون ایک ہفتہ خارج ہوجائے گا۔ بودھن کے آر ڈی او راجیشور نے بتایا کہ فہرست سے نام کے اخراج کی کارروائی جاری ہے۔