کویت میں شیرخوار بچے کی قاتل گھریلو ملازمہ کو سزائے موت دینے کا مطالبہ

   

کویت سٹی: فلپائنی ملازمہ کے ہاتھوں ایک شیر خوار بچے کے قتل کے واقعے کے بعد کویت میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ پھیل گیا۔ دوسری جانب کویتی پبلک پراسیکیوشن نے فوجداری عدالت سے مطالبہ کیا کہ وہ فلپائنی گھریلو ملازمہ کے خلاف سزائے موت پر عمل درآمد کرے جس نے بچے کو واشنگ مشین میں ڈال کر بے رحمی سے قتل کیا۔ پبلک پراسیکیوشن نے فلپائنی ملازمہ کے ٹرائل سیشن میں تصدیق کی کہ جرم بہت بھیانک تھا، کیونکہ ملزمہ نے جان بوجھ کر اس سے جان چھڑانے کے لیے بچے کو واشنگ مشین کے اندر ڈال دیا۔ فوجداری عدالت نے استغاثہ کے دلائل سننے کے بعد ملزمہ کی ذہنی صلاحیت کا جائزہ لینے کے لیے کیس کو میڈیکل کمیٹی کے پاس بھیجنے کا فیصلہ کیا۔
، جب کہ ایک کویتی خاندان جس میں بچے کے والدین شامل ہیں اس سانحے پر نڈھال ہیں۔ انہوں کہا کہ وہ بچے کی ہولناک صورت حال کا تصور کرتے ہوئے چونک جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ڈیڑھ سال کے شیر خوار بچے کو زندگی او ر موت کی کشمکش میں دیکھا تھا۔اس کے انسانی جذبات پر غم کا اثر بچے کی موت کے منظر سے دوگنا ہوگیا، کیونکہ وہ ایک خوفناک انجام سے دوچار ہوا، جسے ایک فلپائنی نوکرانی نے لانڈری کے کمرے میں مار دیا تھا۔یہ واقعہ 27 دسمبر 2024 کو پیش آیا تھا جب ایک فلپائنی گھریلو ملازمہ نے ایک شیر خوار بچے کو واشنگ مشین کے اندر ڈال کر اسے آن کر کے ہلاک کر دیا۔