شہر میں سرما کے کپڑوں کے سیل میں قابل لحاظ کمی
حیدرآباد :۔ حالانکہ موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی درجہ حرارت میں کمی واقع ہوئی ہے اور ہلکی سردی بھی محسوس کی جارہی ہے ۔ لیکن موسم سرما میں استعمال کئے جانے والے کپڑوں کے سیل میں گذشتہ برسوں کے مقابل اس سال قابل لحاظ کمی ہوئی ہے ۔ شہر ملبوسات فروخت کنندوں کا کہنا ہے کہ کوویڈ وبا کے باعث اس سیزن میں ان کپڑوں کی فروخت میں جو کمی دیکھی جارہی ہے ۔ اس پر وہ حیرت زدہ ہیں ۔ موسم سرما میں استعمال کئے جانے والے کپڑوں کو فروخت کرنے والے ایک سیلر پرمود پانی نے کہا کہ ہم ہر سال سرما کے کپڑے فروخت کرنے کے لیے اڈیشہ سے یہاں آتے ہیں ۔ ہم پنجاب سے اسٹاک حاصل کرتے ہیں اور اسے حیدرآباد میں فروخت کرتے ہیں ۔ ہر سال اس وقت تک ہمارا اچھا بزنس ہوجاتا تھا اور کافی سیل ہوتا تھا لیکن اس سال سیل توقع کے مطابق نہیں ہے کیوں کہ لوگ اس وبا کے باعث باہر نکلنے سے گریز کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر لوگ تمام احتیاطی تدابیر کے ساتھ ان کپڑوں کی خریداری کرنے کے لیے آئیں تو اس سے ہم جیسے فروخت کنندوں کی مدد ہوگی ہماری روزی کمانے میں ۔ ایک کسٹمر نے کہا کہ ’ میں سرما کے کپڑے خریدنے کے لیے ہر سال یہاں آتا ہوں لیکن اس سال کوویڈ وبا کے باعث کوئی ہجوم دیکھائی نہیں دے رہا ہے ۔ گذشتہ سال کے مقابل یہ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ کوئی سیل نہیں ہورہا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوویڈ لاک ڈاؤن سے لوگ متاثر ہوئے اس پر شہر میں شدید بارش اور اس کے بعد سیلاب کی وجہ لوگ کافی مشکلات اور نقصانات سے دوچار ہوگئے ۔ ایک اور کسٹمر عزیز نے کہا کہ اس سال میں سرما کے زیادہ کپڑے نہیں خرید سکا ۔ اس سال دوکاندار بھی ان کے پراڈکٹس کو یہ کہتے ہوئے بہت کم قیمت پر فروخت کررہے ہیں کہ بالکل ہی فروخت نہ کرنے سے کچھ فروخت کرنا اچھا ہے ۔۔