کٹیہار سے طارق انور چھٹی مرتبہ کامیابی کیلئے کوشاں

   

پٹنہ: بہار کے لوک سبھا انتخابات 2024 میں کٹیہار پارلیمانی حلقہ پر انڈیا اتحاد کی کانگریس کے امیدوار طارق انور سیاسی میدان میں انتخابی چھکا لگانے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ این ڈی اے کی اتحادی جے ڈی یو کے دلال چند گوسوامی کو اس بار اپنی سیٹ برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش ہے ۔بڑے قد آور لوگوں کو کٹیہار پارلیمانی حلقہ کی نمائندگی کا موقع ملا ہے ۔ کٹیہار سے کانگریس صدر اور خزانچی رہ چکے سیتارام کیسری، اور سابق مرکزی وزیر طارق انور کو پانچ بار ایم پی بننے کا اعزاز حاصل ہے ۔ یہاں سے بی جے پی کے نکھل کمار چودھری نے بھی جیت کی ہیٹ ٹرک لگائی ہے ۔ کٹیہار سے اب تک کانگریس امیدوار سات بار، بی جے پی تین بار، جنتا دل، پرجا سوشلسٹ پارٹی، بھارتیہ جن سنگھ، بھارتیہ لوک دل، این سی پی اور جے ڈی یو نے ایک ایک بار جیت کا جھنڈا لہرایا ہے ۔ کٹیہار جسے جوٹ سٹی کے نام سے جانا جاتا ہے ، ہمیشہ سیمانچل اور بہار کی سیاست کا ایک مقبول مرکز رہا ہے ۔ مغربی بنگال سے متصل علاقے میں کوسی، گنگا اور مہانندا ندیاں بہتی ہیں۔ زرخیز زمین والے علاقہ کے عوام نے ہمیشہ ہر بڑی پارٹی کا ساتھ دیا ہے ۔ کٹیہار حلقہ سال 1957 میں وجود میں آیا تھا اور اس سال انتخابات میں کرسیلا اسٹیٹ کے رائے بہادر رگھوونش نارائن سنگھ کے بیٹے اودھیش کمار سنگھ کانگریس ٹکٹ پر پہلے ایم پی بنے تھے ۔ انہوں نے آزاد امیدوار شفیق الحق کو شکست دی تھی۔ ایک سال بعد اودھیش سنگھ کی موت کے بعد 1958 میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں کدوا بلاک کے تحت کدوا گاؤں کے رہنے والے آنجہانی بھولناتھ بسواس کو کانگریس کے ٹکٹ پر ایم پی بننے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔ اس حلقہ سے پانچ بار کامیاب رہ چکے طارق انور اس بار چھٹی مرتبہ کامیابی حاصل کرنے پوری شدت سے مہم کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔