کپتان سے عام کھلاڑی بن کر کھیلنا آسان نہیں :ہولڈر

   

بارباڈوس ۔14 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ویسٹ انڈیز کے ٹسٹ کپتان جیسن ہولڈر نے اعتراف کیا کہ ونڈے کپتان سے صرف ایک عام کھلاڑی کے طور پر تبدیل ہونا اتنا آسان نہیں ہے۔گزشتہ سال ستمبر میں ہولڈر کی جگہ کیرن پولارڈ کو کپتان مقررکیاگیا تھا اور انہوں نے اعتراف کیا کہ عام کھلاڑی کے طور پر نئے تقاضوں کو پورا کرنا مشکل تھا۔ ہولڈر نے کرکٹ کلکٹئو پوڈکاسٹ سے کہاکہ ایمانداری سے کہوں تو ایک عام کھلاڑی کے طور پر کھیلنا آسان نہیں ہے۔ہولڈر نے اس بات کو تسلیم کیا کہ گزشتہ چند سال میں ان کی کارکردگی توقع کے مطابق نہیں رہی تھی۔ انہوں نے گزشتہ سال آئی سی سی ورلڈ کپ کی آٹھ اننگز میں آٹھ وکٹ لئے تھے لیکن اس کے بعد انہوں نے 10 ونڈے میں 69.85 کے اوسط اور 75.4کے اسٹرائک ریٹ سے صرف سات وکٹ لئے تھے۔ ہولڈر نے کہاکہ میری کارکردگی میری توقع کے عین مطابق نہیں تھی لیکن میں اس سے ناخوش نہیں ہوں۔ میں زیادہ پریشان اس لیے نہیں ہوں کیونکہ مجھے اپنی صلاحیت کا علم ہے۔ مجھے پتہ ہے کہ میں کیاکرسکتا ہوں۔28 سالہ ویسٹ انڈین کھلاڑی نے کہا کہ ٹسٹ اور ونڈے دونوں فارمیٹ میں کپتانی کرنے سے ذہنی اور جسمانی طور سے تھکن رہتی تھی لیکن ونڈے سے کپتانی چھوڑنے کے بعد وہ اپنی کارکردگی پر توجہ مرکوزکر پائیں گے۔ہولڈر نے کہاکہ مجھے دسمبر میں ہندوستان کے ساتھ سیریز کے بعد وقفے کی ضرورت تھی۔میں نے 2019 میں تمام سیریزکھیلیں اور کاونٹی کرکٹ بھی کھیلی لیکن اس کے بعد مجھے آرام کی ضرورت تھی۔انہوں نے کہاکہ مجھے اس بارے میں سوچنے کی ضرورت تھی کہ میں کس طرح اپنے کھیل کو بہتر کروں اور ایک کھلاڑی کی وجہ سے کس طرح کھیلوں۔ ہولڈر نے اپنے کیریئر میں 150 سے زیادہ وکٹ لئے ہیں اور وہ اس وقت ویسٹ انڈیز کے بہترین فاسٹ بولروں میں سے ایک ہیں۔