کپڑے کا ماسک خطرناک، سرجیکل یا N-95 ماسک استعمال کریں

   

کورونا کی تیسری لہر کے بعد ماسکس کے استعمال میں اضافہ، ماہرین کی رائے

حیدرآباد ۔ 8 جنوری (سیاست نیوز) زیادہ تر لوگ کورونا سے محفوظ رہنے کیلئے کپڑے کے ماسک کا استعمال کررہے ہیں جو خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ جیسے جیسے ملک میں کورونا کے کیسیس میں اضافہ ہورہا ہے ویسے ویسے ماسک کے ا ستعمال میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ کئی قسم کے ماسکس مارکٹ میں دستیاب ہوگئے ہیں۔ کلاتھ ماسکس کے علاوہ N-95 اور سرجیکل ماسکس کے استعمال میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ ملک میں کورونا کی تیسری لہر کا آغاز ہوگیا ہے لیکن شعور بیدار نہ ہونے کی وجہ سے لوگ کپڑے کے ماسکس کا استعمال کررہے ہیں۔ چند لوگ تو دستی منہ پر باندھ کر سڑکوں پر گھوم رہے ہیں لیکن اب کورونا کی وبا اپنی شکلیں تبدیل کررہا ہے۔ پہلے کی بہ نسبت مزید طاقتور ہوگیا ہے۔ مختلف ریسرچ میں N-95 ماسک کو ہی بہتر قرار دیا جارہا ہے۔ اگر کوئی شخص کورونا سے متاثر ہوجاتا ہے اور کوئی ماسک نہیں لگاتا ہے تو متاثرہ شخص سے کوئی بھی 6 فیٹ دور ہونے پر بھی 15 منٹ میں متاثر ہوجانے کا خطرہ ہے۔ اگر کپڑے کا ماسک استعمال کرنے پر 27 منٹ میں متاثر ہونے سرجیکل ماسک کا استعمال کرنے پر 30 منٹ میں متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ اس طرح کورونا سے متاثر اور غیرمتاثر دونوں N-95 ماسکس کا استعمال کرتے ہیں اور دونوں کی ملاقات ہوتی ہے تو 25 گھنٹوں میں غیرمتاثرہ شخص متاثر ہونے کے خطرات ہیں۔ (CDC) کی جانب سے اس پر اسٹڈی کی گئی ہے۔ (ACGIH) کے مطابق سرجیکل ماسک متاثرہ شخص سے محفوظ رکھنے میں مددگار ہوسکتا ہے۔ متاثرہ افراد سرجیکل ماسک کا استعمال کرتے ہیں تو ان سے دوسروں کو محفوظ رکھنے میں کارآمد ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہیکہ کپڑے کے ماسک کا استعمال کرنے والے سرجیکل ماسک کے ساتھ اس کو استعمال کرتے ہیں تو ان کے اور دوسروںکے لئے بہتر ثابت ہوگا۔ سائنسدانوں نے کلاتھ ماسک کے بجائے سرجیکل یا N-95 ماسک استعمال کرنے کا عوام کو مشورہ دیا ہے۔ن