کھاد کیلئے قطار میں کھڑا کسان فوت ‘ قلب پر حملہ سے اچانک گرپڑا

   

Ferty9 Clinic

سدی پیٹ دوباک میں واقعہ ۔ ریاست میں کھادوں کی کوئی قلت نہیں۔ وزیر زراعت نرنجن ریڈی کی وضاحت
سدی پیٹ / حیدرآباد 5 ستمبر ( پی ٹی آئی ) تلنگانہ میں یوریا ( کھاد ) کی کمی کے دعووں کے دوران ایک 69 سالہ کسان سدی پیٹ ضلع میں کھاد کے حصول کیلئے قطار میں کھڑے رہنے کے دوران قلب پر حملہ کے باعث گرپڑا اور بعد ازاں فوت ہوگیا ۔ یہ واقعہ آج پیش آیا ۔ پولیس نے یہ بات بتائی اور کہا کہ جی ایلیا نامی یہ کسان اچی مائی پلی گاوں کا ساکن تھا اور وہ ابتدائی اگریکلچر کوآپریٹیو سوسائیٹی دفتر واقع دوباک پہونچا اور کھاد کے حصول کیلئے قطار میں کھڑا ہوگیا ۔و ہ اچانک گرپڑا جس کے بعد اسے قریبی سرکاری دواخانہ منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرس نے اسے مردہ قرار دیا ۔ کسانوں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ غمزدہ خاندان کیلئے ایکس گریشیا جاری کیا جائے ۔ محکمہ زراعت کے ایک عہدیدار نے کہا کہ کھاد کے ذخیرہ کی آمد کے پیش نظر کثیر تعداد میں کسان وہاں جمع ہوگئے تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے ان تمام کو ٹوکن دئے تھے کہ وہ قطار میں کھڑے ہوسکیں ۔ اچانک ہی ان میں سے ایک کسان گر پڑا ۔ اس واقعہ سے ایک طرح کا ہنگامہ پیدا ہوگیا کیونکہ اپوزیشن کانگریس اور بی جے پی نے ریاستی حکومت کو تنقیدوں کا نشانہ بنانا شروع کردیا ہے ۔ وزیر زراعت ایس نرنجن ریڈی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں کھادوں کا وافر ذخیرہ موجود ہے جس سے کسانوں کی ضروریات کا خیال رکھا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کھادوں کے ذخائر کے تعلق سے فکرمند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ ہم 12 ستمبر تک 60 ٹن کھادوں کا ذخیرہ کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیںجبکہ اصل ضرورت 48 ٹن کی ہے ۔ ہم ہر ہفتہ کی ضروریات کے مطابق اسٹاکس فراہم کرتے ہیں اور ہر ہفتہ کی ضرورت الگ الگ ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال پر کوئی حوا کھڑا نہیں کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کرنے کے نتیجہ میں خریداری کے رجحان میں اچانک اضافہ ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں سے بھی خواہش کی کہ وہ کسان کی موت کو سیاست کا موضوع نہ بنائیں۔ نرنجن ریڈی نے بتایا کہ حکومت تلنگانہ نے ماہ ستمبر کی ضرورت کیلئے مرکز سے دو لاکھ ٹن کا ذخیرہ طلب کیا ہے ۔ بی جے پی تلنگانہ یونٹ کے ترجمان کے کرشنا ساگر راو نے کہا کہ چندر شیکھر راو حکومت نے ایک بار پھر ریاست کے کسانوں کو مایوس کیا ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کھادوں کی کم سپلائی ریاستی محکمہ زراعت کے لا پرواہ رویہ کی وجہ سے ہو رہی ہے اور ریاستی حکومت پر اس پر کسی طرح کے اقدامات نہیں کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے تلنگانہ کیلئے 8.5 لاکھ ٹن کھادوں کا ذخیرہ الاٹ کیا ہے جبکہ جاریہ سیزن کیلئے کم سے کم ضرورت 6.5 لاکھ ٹن کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی اہم فصل سیزن سے قبل کے سی آر حکومت کی لاپرواہی کی شدید مذمت کرتی ہے ۔