کھاد کی عدم دستیابی پر کسان کی موت کیلئے حکومت ذمہ دار: بھٹی وکرامارکا

   

کے سی آر حکومت دھاندلیوں میں ملوث، برقی، زراعت اور آبپاشی شعبہ جات کے امور میں بے قاعدگیاں

حیدرآباد۔ 5 ستمبر (سیاست نیوز) کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ کھاد کے لیے میدک کے دوباک منڈل میں کسان کی موت کے لیے ٹی آر ایس حکومت ذمہ دار ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو ریاست بھر میں سدی پیٹ ماڈل پر عمل آوری کا دعوی کررہے ہیں لیکن دوباک میں یوریا سے محرومی کے نتیجہ میں کسان کی موت باعث شرم ہے۔ نئی دہلی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ کسان رقم خرچ کرتے ہوئے یوریا حاصل کرنے تیار ہیں اس کے باوجود یوریا دستیاب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ رائیتو بندھو اور کسانوں کے قرض معافی کی اسکیمات پر عمل آوری نہ کیے جانے کے سبب تلنگانہ میں زراعت کا شعبہ بحران کا شکار ہے۔ انتخابات سے قبل کسانوں پر وعدوں کی بارش کی گئی لیکن آج انہیں نظرانداز کردیا گیا۔ کسانوں کو 20 ہزار کروڑ روپئے کی ادائیگی حکومت کی جانب سے باقی ہے لیکن چیف منسٹر نے آج تک اس سلسلہ میں عہدیداروں کو کوئی ہدایت نہیں دی۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ ریاست کو قرض میں مبتلا کردیا گیا ہے اور برقی کی خریدی میں بڑے پیمانے پر دھاندلیاں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی ٹی آر ایس کی دھاندلیوں کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ قرض کی معافی سے حکومت کی بے حسی کے نتیجہ میں کسان معاشی بحران کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام وبائی امراض میں مبتلا ہیں لیکن حکومت کو عوامی صحت کی کوئی فکر نہیں ہے۔ وزیر صحت ایٹلا راجیندر نے صورتحال کے قابو میں ہونے کا دعوی کیا لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں۔ سرکاری دواخانوں میں بنیادی طبی سہولتوں کی کمی کے نتیجہ میں غریب اور متوسط خاندان کافی پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کی سطح پر جائزہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے ہر ضلع میں جنگی خطوط پر اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ سرکاری دواخانوں میں بجٹ کی کمی کے سبب ڈاکٹرس اور طبی عملہ بہتر طور پر فرائض ا نجام دینے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھمم ضلع میں وبائی امراض سے 18 اموات کی اطلاعات ملی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹرس اور طبی عملے کی تمام مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کیے جائیں۔