انسانیت کے خلاف اس نوعیت کے فعل کی سخت ترین الفاظ میں مذمت، عالمی سطح پر بھی سختی سے مسترد کئے جانے کی ضرورت
نئی دہلی، 17 مارچ (یو این آئی) کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے منگل کے روز کابل میں ہونے والے فضائی حملوں کی مذمت کی ہے ، جن کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس واقعے کو ’’معصوم جانوں کا ہولناک زیاں‘‘ اور ایک ایسا فعل قرار دیا جسے عالمی سطح پر مسترد کیا جانا چاہیے ۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک بیان میں کانگریس صدر نے کہا کہ انڈین نیشنل کانگریس کی جانب سے وہ کابل میں پاکستان کے حالیہ فضائی حملوں کے بعد شہریوں کی ہلاکتوں پر شدید رنجیدہ ہیں، جہاں ایک اسپتال کو نشانہ بنایا گیا جس میں تقریباً 400 افراد ہلاک ہوئے۔ کھرگے نے اس واقعہ پر عالمی برادری کے ردعمل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم انسانیت کے خلاف اس طرح کے فعل کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ ایسی بربریت کو عالمی سطح پر سختی سے مسترد کیا جانا چاہیے۔ یہ ریمارکس کابل میں ہونے والے ان تباہ کن فضائی حملوں کے بعد سامنے آئے ہیں جن میں مبینہ طور پر ایک اسپتال کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں بھاری جانی نقصان ہوا اور سنگین انسانی خدشات پیدا ہوئے ۔ اگرچہ حملوں اور جوابدہی سے متعلق تفصیلات تاحال متنازعہ ہیں، لیکن جانی نقصان کے بڑے پیمانے نے سیاسی رہنماؤں اور انسانی حقوق کی آوازوں کی جانب سے شدید ردعمل پیدا کیا ہے ۔ متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کھرگے نے سوگوار خاندانوں اور افغانستان کے عوام سے تعزیت کی۔ انہوں نے کہا کہ میرے افغان بھائیوں اور بہنوں اور ان خاندانوں کے لیے میری دلی تعزیت جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا ہے ۔افغانستان کے ساتھ ہندوستان کے تاریخی تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے کھرگے نے بحران کے وقت مسلسل تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان افغانستان کے عوام کے ساتھ دوستی اور خیر سگالی کا دیرینہ رشتہ رکھتا ہے ۔ اس مشکل گھڑی میں، ہم اپنے افغان پڑوسیوں کے ساتھ ہمدردی کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے ملک لیے امن، بحالی اور استحکام کے لیے دعا گو ہیں۔ ہندوستان اور افغانستان نے دہائیوں کے دوران قریبی ثقافتی، اقتصادی اور سفارتی تعلقات استوار کیے ہیں، اور نئی دہلی اکثر افغان عوام کی فلاح و بہبود، خاص طور پر تنازعات اور عدم استحکام کے ادوار میں، اپنے عزم کا اعادہ کرتا رہا ہے۔
کھرگے کا بیان شہریوں کی حفاظت اور خطے میں امن کی فوری ضرورت پر بڑھتی ہوئی تشویش میں ایک اور اضافہ ہے ۔