کھلے سگریٹ کی فروخت پر پابندی حکومت کے زیر غور

   

Ferty9 Clinic

چھوٹے پان شاپ نشانہ، بے روزگاری میں مزید اضافہ کا اندیشہ
حیدرآباد۔/31 اگسٹ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت کرناٹک کی طرز پر تمباکو کے استعمال کی حوصلہ شکنی کیلئے کھلے سگریٹ کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کا جائزہ لے رہی ہے۔ حال ہی میں کرناٹک نے کھلے سگریٹ کی فروخت پر پابندی عائد کردی۔ سگریٹ حکومت کے آرڈیننس اور قواعد کے باوجود غیر لائسنس شدہ اسٹورس پر شہر بھر میں آسانی سے دستیاب ہیں۔ تعلیمی اداروں، دفاتر، مساجد، منادر اور عوامی مقامات پر ٹی اسٹالس، جنرل اسٹورس اور پان شاپس پر کھلے سگریٹ فروخت ہورہے ہیں۔ اگر حکومت کھلے سگریٹ کی فروخت پر پابندی عائد کرتی ہے تو پان شاپ اونرس اور اُن میں کام کرنے والے ملازمین کا روزگار متاثر ہوگا۔ اندیشہ ہے کہ اس طرح کے فیصلہ سے بیروزگاری میں اضافہ ہوگا۔ شہر کے ایک پان شاپ مالک نے بتایا کہ سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد سے عوام کھلے سگریٹ کی خریدی کو ترجیح دے رہے ہیں اور بہت کم لوگ ہی سگریٹ کی ڈبی خرید رہے ہیں۔ مرکزی حکومت نے 2003 کے قانون میں ترمیمات کے ذریعہ سگریٹ اور دیگر تمباکو اشیاء کو قانون کے دائرہ میں شامل کیا۔ 2017 میں بعض رعایتیں دی گئیں تاہم بتایا جاتا ہے کہ حکومت نئی ترمیمات پر غور کررہی ہے۔ عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی کیلئے فی الوقت 200 روپئے جرمانہ کی گنجائش ہے۔ حالیہ عرصہ میں حیدرآباد کو سگریٹ نوشی سے نجات دلانے کے موضوع پر منعقدہ ورکشاپ میں پولیس اور ڈائرکٹوریٹ آف ہیلت اینڈ فیملی ویلفیر نے سختی کے ساتھ قوانین پر عمل آوری کا فیصلہ کیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2018-19 کے دوران تلنگانہ ریاست میں کھلے عام سگریٹ نوشی پر 900 افراد پر جرمانہ عائد کرتے ہوئے ایک لاکھ 39 ہزار روپئے جرمانہ وصول کیا گیا۔ جاریہ سال پولیس عوامی مقامات پھر سگریٹ نوشی پر سخت چوکسی کا منصوبہ رکھتی ہے تاہم غیر لائسنس یافتہ دکانات کے ذریعہ کھلے سگریٹ کی فروخت کو روکنے پر کوئی پابندی نہیں۔ کئی دکاندار سستے اور غیر قانونی سگریٹ فروخت کرتے ہیں جن پر ملک بھر میں امتناع عائد ہے۔ اسی دوران پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں نے دعوٰی کیا کہ عام مقامات پر سگریٹ نوشی کے واقعات میں کمی آئی ہے۔