کھمم میں اتوار کو کانگریس کا جلسہ بی آر ایس کے زوال کا آغاز: ریونت ریڈی

   

راہول گاندھی کی شرکت، سرینواس ریڈی کی کانگریس میں شمولیت
حیدرآباد ۔30۔ جون (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے کہا کہ 2 جولائی کو کھمم میں کانگریس کا جلسہ عام تلنگانہ میں کے سی آر حکومت کے زوال کا آغاز ہوگا۔ ریونت ریڈی نے آج کھمم پہنچ کر جلسہ کے انتظامات کا جائزہ لیا ۔ سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا ، تشہیری کمیٹی صدرنشین مدھو یاشکی گوڑ اور دیگر کے ساتھ اجلاس میں تیاریوں کا جائزہ لیا گیا ۔ جلسہ عام میں دو لاکھ سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے ۔ اے آئی سی سی قائد راہول گاندھی جلسہ سے خطاب کریں گے جسے جنا گرجنا سبھا کا نام دیا گیا ہے ۔ کھمم کے سابق رکن پارلیمنٹ پی سرینواس ریڈی اپنے حامیوں کے ساتھ کانگریس میں شمولیت اختیار کریں گے ۔ اس موقع پر بھٹی وکرمارکا کی پیپلز مارچ پد یاترا کے اختتام پر راہول گاندھی تہنیت پیش کریں گے۔ جائزہ اجلاس میں ورکنگ صدر مہیش کمار گوڑ ، اے آئی سی سی سکریٹری روہت چودھری ، وی ہنمنت راؤ ، بلرام نائک ، کونڈا مرلی اور دیگر نے شرکت کی۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے چیف منسٹر کے سی آر کو چیلنج کیا کہ کھمم جلسہ عام میں بی آر ایس جلسہ عام سے زیادہ عوام شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کھمم جلسہ عام کے سی آر حکومت کے زوال کا آغاز ہوگا اور لاکھوں عوام شریک ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی سرینواس ریڈی کی شمولیت ضلع میں کانگریس کے استحکام کا سبب بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی سے 1500 بسوں کو حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن حکومت آر ٹی سی پر دباؤ بنارہی ہے کہ بسوں کو کانگریس کیلئے نہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی رکاوٹوں کے باوجود جلسہ عام میں بی آر ایس کے جلسہ سے زیادہ افراد شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی میں قدیم اور نئے قائدین متحدہ کام کر رہے ہیں اور کھمم کی تمام 10 اسمبلی نشستوں پر کانگریس کامیاب ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں 80 سے زیادہ اسمبلی نشستوں پر کامیابی حاصل کرنا قائدین کی ذمہ داری ہے ۔ تلنگانہ میں اقتدار کو سونیا گاندھی کی سالگرہ کے تحفہ کے طور پر پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شکست کے خوف سے کے سی آر عوام کے درمیان دکھائی دے رہے ہیں۔ کانگریس کی جدوجہد کے نتیجہ میں قبائل میں جنگلاتی اراضی تقسیم کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر چندرا بابو نائیڈو کے سی آر کو کابینہ میں شامل کرتے تو آج بی آر ایس کا وجود نہ ہوتا۔ر