کھمم ۔ 22 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : کھمم میں ایوشمان بھارت ، مرکز کی ہیلت اسکیم سے متعلق مشکوک انداز میں خاندانی سروے کرنے پر مقامی عوام نے عہدیداروں کو واپس کرنے پر مجبور کردیا ، کھمم ضلع کے عوام میں اس سروے کو لے کر تجسس پایا جاتا ہے جب کہ عوامی نمائندے اس موقع پر غائب تھے ، واضح رہے کہ مورخہ 21 فروری جمعہ کو کھمم شہر کے محلہ مصطفی نگر میں محکمہ صحت سے وابستہ عہدے داران پہنچ کر صحت وطب کے نام پر عوام سے تفصیلات حاصل کر رہے تھے ۔ جس کے اندر این پی آر اور این آر سی کے لیے جو فارمس بنے ہوئے ہیں اس کے مطابق سوالات کیے جارہے تھے ۔ اسی طرح عوام سے ان کا آدھار کارڈ ، پاسپورٹ ، ذرائع آمدنی ، مکان کرایہ کا ہے یا ذاتی ، گیس سیلنڈر ہے یا نہیں ۔ اس قسم کے تمام تفصیلات حاصل کیے جارہے تھے اور خاندان کے ہر فرد کی مکمل تفصیل لئے جارہے تھے ۔ عوام نے اس سروے کو مکمل مشکوک قرار دیا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ واقعتاً محکمہ صحت کی یہ اسکیم ہے تو تمام افراد خاندان کی تفصیلات کیوں حاصل کی جارہی ہے اور اتنے سوالات اور تفصیلات کیوں حاصل کئے جارہے ہیں ۔ آیا کہیں اس اسکیم کے نام پر خفیہ طور پر این پی آر ، این آر سی کا سروے تو نہیں کیا جارہا ہے ؟ کھمم کے عوام کے درمیان اس سروے کو لے کر سخت برہمی پائی جارہی ہے اور عوام کا ماننا ہے کہ یہ این پی آر اور این آر سی کا ہی سروے ہے ۔ آج کے تمام تلگو اور اردو اخبارات میں اس سلسلہ میں جب نیوز شائع ہوئی کہ کہیں یہ این پی آر ، این آر سی کا سروے تو نہیں ہے ؟ تو فوری ضلع کھمم کے ڈی این ایچ او ڈاکٹر مالتی نے کھمم کے محلہ مصطفی نگر پہنچ کر احاطہ مسجد میں محلہ کے ذمہ داروں کو اس اسکیم کے تحت جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ یہ سروے جو کیا جارہا ہے وہ صرف صحت سے متعلق کیا جارہا ہے کہ خاندانوں میں کتنے افراد شکر ، ہارٹ ، بی پی و دیگر امراض سے متاثر ہے ۔ یہ جانکاری ان کے علاج و معالجے کے لیے کیا جارہا ہے ۔ ڈی ایم ایچ او کے اس بیان سے وہاں موجود عوام نے اتفاق نہیں کیا اور ڈی ایم ایچ او سے پوچھا گیا کہ جو فارم لایا گیا اس فارم میں تمام سوالات ٹھیک اسی طرح ہیں جس طرح این پی آر کے فارم میں ہے ۔ واقعتاً اگر صحت کے متعلق یہ اسکیم ہوتی تو اس میں صرف صحت کے متعلق ہی سوالات ہوتے مگر اس فارم میں صرف اور صرف مجوزہ این پی آر کے فارم میں جو سوالات ہیں وہی اس کے اندر بھی ہیں ۔ ستم ظرفی تو یہ ہے کہ عہدے داران جو فارم لے کر آتے اس میں نہ تو مرکزی حکومت کا ’ لوگو ‘ ہے اور نہ ریاستی حکومت کا ’ لوگو ‘ ہے جس سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ این پی آر اور این آر سی کی خفیہ جانکاری کے لیے یہ حربہ استعمال کیا جارہا ہے ۔ اس سروے کو لے کر کھمم کے عوام برہمی کا اظہار کررہے ہیں ۔ اور عوامی نمائندے تماشائی بنے ہوئے ہیں اور فارم کے آخر میں دو سطر اس طریقے سے لکھے گئے ’ میں جو کچھ جانکاری دے رہا ہوں اپنی مرضی سے دے رہا ہوں ‘ ۔ فارم صرف تلگو زبان میں ہے اردو اور انگریزی ندارد ۔۔