کھول آنکھ ، زمین دیکھ ، فلک دیکھ ، فضاء دیکھ…

   

محمد مبشرالدین خرم
دنیا عرب و عجم کے درمیان جاری معرکہ کو ایک ماہ کا عرصہ مکمل ہوچکا ہے اور اس ابتدائی ایک ماہ کے دوران دنیا جن حالات کا شکار ہونے لگی ہے وہ حق کے پرستاروں کے لئے ایک امید کی کرن بنتی جا رہی ہے کیونکہ دنیا کے سوپر پاؤر ممالک اور منافقین کے اتحاد سے نبردآزما ایران نے یہ ثابت کردیا ہے کہ جس قوم سے دنیا کا خوف نکل جاتا ہے اور جن کے دلوں میں اللہ کا خود پیدا ہوجاتا ہے وہ دنیا کی کسی بھی طاقت کو گھٹنوں کے بل لا سکتاہے۔ ایران نے ایک ماہ طویل اس جنگ کے دوران امریکی اثاثوں کو جس انداز میں نشانہ بنایا ہے وہ نہ صرف لائق ستائش ہے بلکہ دنیا یہ کہنے پر مجبور ہوچکی ہے کہ سوپر پاؤر کا تمغہ اب ایران کو دے دیا جانا چاہئے کیونکہ ایران نے دو ممالک کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے نتیجہ میں دنیا کو یرغمال بنالیا ہے جبکہ جنگ شروع کرنے والوں نے جس مقصد کو بنیاد بناتے ہوئے جنگ شروع کی تھی وہ اسے روز اول ہی حاصل کرچکے تھے لیکن ’’شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے‘‘ کے مصداق رہبر اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت نے ’’قوموں کو زندہ‘‘ کردیا ہے اور وہ زندہ قوم اب ظالموں کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہیں۔جنگی جنون کا شکار اسرائیل و امریکہ طاقت کے نشہ میں اس قدر چور تھے کہ وہ ایران میں اندرون 72گھنٹے اقتدار کی تبدیلی کے دعوے کرتے ہوئے حملہ کا آغاز کیا تھا لیکن اب ایک ماہ کی اس جنگ کے دوران اسرائیل کا آرمی چیف یہ اشارے دے رہا ہے کہ اب ان کے پاس مزید جنگ کی صلاحیت باقی نہیں رہی ‘ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ دنیا بھر میں موضوع مذاق بنے ہوئے ہیں ۔ امریکہ اپنے NATO کے حلیفوں کو اس جنگ میں شامل کرنے کی ناکام کوشش کے بعد ایک ماہ کے دوران امریکی صدر کے منظر عام پر آئے ہیں وہ باطل میں پھیلی ہوئی بے چینی کو ظاہر کرنے کے لئے کافی ہے اور جہاں تک اسرائیل کے بنجامن نتن یاہو کا سوال ہے اب ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے بیانات میں اسرائیلی وزیر اعظم کا حوالہ دینا بھی بند کردیا ہے جو کہ اسرائیل کے وزیر اعظم کے وجود سے متعلق شبہات کو تقویت ملنے لگی ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو کو اگر ایران واصل جہنم کرنے میں کامیاب ہوچکا ہے تو اصولی بنیادوں پر یہ جنگ بند ہوجانی چاہئے تھی کیونکہ 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے دوران آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کا بدلہ لینے کے لئے ہی یہ جنگ شروع ہوئی تھی تو اسے ختم کرنے کے لئے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو اتنے بنیات تبدیل کرنے یا مذاکرات کے حوالہ دینے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اگر وہ ’’بنجامن نتن یاہو‘‘ کی موت کا اعلان کرتے ہیں توایسی صورت میں جنگ ختم ہوسکتی ہے لیکن ٹرمپ بھی اس بات سے واقف ہے کہ یہ جنگ وہ نہیں جو ختم ہونے والی ہے بلکہ اس جنگ کو انہوں نے خود بھی زمانہ ٔ آخر کی اس مذہبی جنگ کے طور پر شروع کیا ہے جو نجات دہندہ کی آمد کا موجب ہوگی۔ اسرائیل و امریکہ نے اسے مذہبی جنگ کے طور پر شروع کرتے ہوئے ’خراساں ‘ کی پہاڑیوں کو نشانہ بناتے ہوئے عالم اسلام کو اس جنگ میں جھونک دیا ہے اور اس جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی دنیا بھر میں ملحمۃ الکبریٰ و ملحمۃ العظمیٰ سے متعلق روایات و پیشن گوئیوں کے علاوہ روایات وائرل ہونے لگیں اور ان کے مقابلہ میں وہ گروہ جو کہ عرب حکمرانوں اور ان کے مفادات کے تحفظ میں سرگرم ہے اس جنگ کو مسلکی بنیادوں پر منقسم کرنے کی کوشش شروع کردی تھی لیکن امت مسلمہ نے ماہ رمضان المبارک کے دوران شروع ہونے والے اس معرکہ کو مسلکی بنیادوں پر تقسیم کی کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے یہ ثابت کردیا ہے کہ اس طرح کے حالات میں وہ ’’عربوں کی تباہی ‘‘ سے متعلق احادیث کو فراموش نہیں کرسکتے اور دنیا کے تمام حالات کو جوڑ کردیکھنے کی عام مسلمانوں میں صلاحیت موجود ہے اور ضرورت پڑنے پر وہ حق کے لئے اٹھ کھڑے ہونے کی صلاحیت ان میں موجود ہے۔
امریکہ و اسرائیل نے اس جنگ کے آغاز کے ذریعہ ہندستان کے ’بندمٹھی کے بھرم‘ کو بھی کھول دیا ہے کیونکہ ہندستان نے دنیا بھر میں اپنی جو شبیہ بنائی ہوئی تھی اس کے مطابق دنیاکی نظر میں ہندستان ’غیر جانبدار ‘ ممالک کی فہرست میں شامل تھا اور دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز کے علاوہ قیام امن کے لئے کام کرنے والے ممالک کی قیادت کیا کرتا تھا لیکن 2014کے بعد سے ملک کی خارجہ پالیسی میں خاموشی کے ساتھ لائی گئی تبدیلی بلکہ یہ کہیں تو غلط نہ ہوگا کہ ہندستانی خارجہ پالیسی پر ’’آرایس ایس کے اثرات‘‘ نے ہندستان کو ایسے مقام پر لاکھڑا کردیا ہے کہ ہندستان کی معیشت کو جس طرح سے پیش کیا جا رہا تھا اس کی قلعی پوری طرح سے کھل گئی اور ڈالر کی قیمت 95 روپئے تک پہنچنے کے بعد بھی حکومت ہند کی جانب سے ملک کی معیشت کو انحطاط سے محفوظ رکھنے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں۔ ہندستان کی آزادی کے وقت ڈالر کی قیمت ہندستانی روپئے میں 3.30 روپئے تھی اور اٹل بہاری واجپائی کے دورحکومت میں ڈالر کی قیمت 43.4 روپئے شروع ہوئی تھی جو کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کے اقتدار میں آنے تک 45.30 روپئے ہوئی تھی ۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ 2004 تا2014کے دوران ڈالر کی قیمت 45.30 روپئے سے بڑھ کر 58.70 روپئے تک پہنچ گئی تھی اور اس دوران آر ایس ایس اور بھارتیہ جنتاپارٹی نے منموہن سنگھ کو روپئے قدر میں گراوٹ کے لئے ذمہ دار قرار دیتے ہوئے جو مہم شروع کی تھی اس مہم نے نریندر مودی کو 2014 میں اقتدار پر لایا اور اس وقت ڈاکٹر کی 58.70 روپئے تھی لیکن اندرون 12 سال اب نریندر مودی کے دور حکومت میں ڈالر کی قیمت 95 روپئے سے تجاوز کرچکی ہے جو کہ روپئے کی قدر میں گراوٹ کی سنگین صورتحال ہے ۔ ایران۔اسرائیل و امریکہ کی اس جنگ کے دوران امریکی حصص بازار سے ایک ماہ کے دوران 5ملین ڈالر کی نکاسی کی توثیق ہوئی ہے جبکہ ہندستان کی مجموعی معیشت کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ 4.18 ٹریلین کی ہے اس اعتبار سے ہندستان کی مجموعی معیشت کے مماثل سرمایہ نکاسی امریکی حصص بازار سے ہوچکی ہے لیکن ہندستان اپنی معیشت کے استحکام اور اسے 5ٹریلین تک لیجانے کے سلسلہ میں کسی بھی منصوبہ کا تاحال اعلان نہیں کرپایا ہے بلکہ اب تک بھی اس سلسلہ میں مکمل خاموشی ہے۔
ہندستان کو تیل اور توانائی کے مسائل سے دوچارکرنے والے عناصر کا مشاہدہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہندستان کی خارجہ پالیسی سے زیادہ ایران کو ہندستانی عوام کے جذبہ نے متاثر کیا ہے جس کے نتیجہ میں وہ ہندستان کے دیرینہ دوستانہ روابط کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ پڑوسی ملک پاکستان نے اس جنگ کے دوران اپنی اہمیت میں اضافہ کے لئے کو مکاری کی ہے وہ زیادہ دن پوشیدہ نہیں رہ سکی بلکہ امریکہ نے ہی پاکستان کی دورنگی کو دنیا کے سامنے آشکار کردیا اسی طرح اگر ہندستان اپنے اسرائیل سے تعلقات اور امریکہ کی آمریت و تسلط کو تسلیم کرنے کا سلسلہ برقرار رکھتا ہے تو ایسی صورت میں ہندستان کو بھی دنیا کے سامنے رسواء ہونا پڑسکتا ہے کیونکہ ایران نے دنیا کے ان تمام ممالک کو اپنے نشانہ پر رکھا ہوا ہے جو اسرائیل اور امریکہ کے اتحادی کے طور پر کام کر رہے ہیں لیکن ہندستانی عوام کے خلوص اور ان کے جذبہ ٔ ایثار نے ایران اور ہندستان کے درمیان برج کا کام کیا ہے جو کہ حکومت ہند کے لئے حالات کو سازگار رکھنے میں مددگار ثابت ہورہا ہے اس کے باوجود اگر پس پردہ مخالف ایران جنگ میں کسی کی مدد کی جاتی ہے تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ امریکہ نے جنگ کو فیصلہ کن بنانے کے لئے اب زمینی جنگ کا آغاز کردیا ہے تو ایسی صورت میں آبنائے ہرموز کے بعد اب آبنائے باب المندب کے سمندری راستہ پر مسائل کا سامنا شروع ہوجائے گا جو کہ معیشت پر تباہ کن اثرات کا سبب بنے گا لیکن اگر دنیا اس جنگ کو واقعی دور آخر میں ہونے والی مذہبی جنگ کا آغاز یا حصہ تصور کر رہی ہے تو ایسی صورت میں اس سے زیادہ سنگین حالات کے لئے تیار ہونے کی ضرورت ہے بلکہ یہ بہترین وقت ہے کہ رجوع الی اللہ ہوتے ہوئے اپنی بہتر زندگی و خاتمہ بالخیر کے لئے عملی کوششوں کا آغاز کریں کیونکہ جن لوگوں کے درمیان جنگ چھڑی ہوئی ہے ان میں خوش قسمتی سے ہم ان لوگوں میں شامل ہیں جن کے پاس ایمان کی دولت موجودہے ‘ جسے نکھارنے کا ہمیں موقع مل رہا ہے۔
ہندستانی مسلمانوں بالخصوص حیدرآباد کے مسلمانوں کے لئے امت کے عظیم رہبر و مفکر قوم و ملت حضرت خلیل اللہ حسینی ؒ کی کتاب ’’خطبات خلیل کے سرورق کے پشت پر حضرت سید خلیل اللہ حسینیؒکا شائع پیام ’’ہم بہت سو چکے‘ ایک دنیا کھو چکے مصائب میں اضافہ ہے‘ مخالفین طوفان بن گئے ہیں۔اب وقت ہے ہم چرچل کے الفاظ میں کہیں Let Us Up and Doing ہم کو اللہ کا نام لے کر کھڑے ہوجانا چاہئے اور اعلان کردینا چاہئے کہ بس بہت ہو چکا اب ہم ظالم کو مزید ظلم کرنے نہ دیں گے حالات کو اور ابتر نہ ہونے دیں گے۔ ہم نہ بحیثیت قوم باعزت طور پر زندہ رہنے کا تہیہ کرلیا ہے اور اس راستہ پر اپنی توانائی کی ہر اکائی ‘ گرہ کی آخری پائی اپنے خون کا آخری قطرہ پیش کرنے کے لئے تیار رہیں۔ مجھے یقین ہے کہ :
سفینۂ برگ گل بنالے گا قافلہ مور ناتواں کا
ہزار موجوںکی ہو کشاکش مکر یہ دریا کے پار ہوگا
دعاء ہے کہ ! اے رحمن ورحیم اپنی رحمتوں سے محروم نہ رکھ اصاب بدر کا واسطہ ہم میں جذبۂ مجاہدانہ پیدا کر‘ اییثار صدیق ؓکا واسطہ ہمیں ایثار و قربانی کا اہل بنا ‘ خون حسین ؓ کا واسطہ ہمیں سب کچھ کٹانے اور لٹانے کے قابل بنا‘‘
ایران کی سرحدوں میں امریکہ اگر اپنے حلیفوں کے ساتھ داخل ہوتا ہے اور زمینی جنگ کا آغاز ہوتا ہے تو ایسی صورت میں کس طرح کے حالات کا سامنا باطل افواج کو کرنا پڑے گا ، اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کیونکہ فضاء اور سمندر پر ایران کی ٹکنالوجی کا مشاہدہ کرنے کے بعد بھی اگر بری افواج کے ذریعہ ایران کو شکست دینے کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے تو یہ بات مخالف ایران ٹولے کی ناسمجھی و ناعاقبت اندیشی تصور کی جائے گی۔