نعش درخت سے لٹکا دی گئی۔ مہاراشٹرا کے بیڑ ضلع میں دل دہلا دینے والا واقعہ
بیڑ : مہاراشٹرا کے بیڑ ضلع میں ایک کمسن لڑکے کی نعش مشتبہ حالت میں ایک درخت سے لٹکی ہوئی پائی گئی جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کمسن کو بعض اشرار نے ان کے کھیت سے گزرنے پر قتل کردیا۔بیڑ ضلع کے ماجلگاؤں تعلقہ کے نیترود علاقے میں یہ انتہائی چونکا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 15 سالہ لڑکے کو کھیت میں پہلے مار مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ اس کے بعد اس کی نعش کو درخت پر لٹکا دیا گیا۔ یہ واقعہ منگل کی صبح نٹروڈ علاقے میں پیش آیا۔ اس معاملے میں تین لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ لڑکے کا نام غلام محمد مرتضیٰ شیخ ہے۔ اس معاملے میں کیلاس ڈاکے، مہادیو ڈاکے اور ہنومنت وانکھیڑے کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ جن میں دو افراد کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔پولیس کے مطابق، بیڑ ضلع کے ماجلگاؤں تعلقہ کے نیترود میں 15 سالہ طالب علم 9ویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ منگل کی صبح 7 بجے کے قریب غلام محمد اپنی بہن سمرن اور چھوٹے بھائی حذیفہ کے ساتھ اپنے دادا کے کھیت میں لکڑیاں لینے گیا تھا۔ اسی وقت کیلاس ڈاکے، مہادیو ڈاکے اور ہنومنت وانکھیڑے نے غلام کو سڑک پر روکا اور پوچھا کہ تم ہمارے کھیت سے کیوں گزر رہے ہو؟ یہ پوچھتے ہوئے اسے مارا پیٹا گیا اور زمین پر گرا دیا گیا۔ان تینوں نے اس رسی سے اس کا گلا گھونٹ دیا جو غلام اپنے ساتھ لکڑی لینے کے لیے لایا تھا۔ یہ سب دیکھ کر غلام کی بہن سمرن اور چھوٹا بھائی حذیفہ ڈر گئے۔ وہ بھاگ کر گھر پہنچے اور گھر والوں کو اس واقعہ کے بارے میں بتایا۔ جس کے بعد اس کے گھر والے فوراً موقع پر پہنچ گئے۔ اس وقت غلام کی نعش پالکھی شاہراہ پر درخت سے لٹکی ہوئی دیکھی گئی۔ پولیس کو جیسے ہی اس معاملے کی اطلاع ملی، وہ موقع پر پہنچ گئی۔ نعش کو درخت سے نیچے اتار کر پوسٹ مارٹم کے لیے مجلگاؤں رورل ہاسپٹل بھیج دیا گیا۔ پولیس نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہے۔