بی جے پی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں بی جے پی ترجمان سدھانشو ترویدی کا سوال
نئی دہلی، 27 فروری (یو این آئی) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے جمعہ کو کانگریس کی سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے دور حکومت میں قومی مفادات کے ساتھ سمجھوتوں اور مخالف فیصلوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کانگریس پر حملہ بولا۔بی جے پی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں پارٹی کے ترجمان سدھانشو ترویدی نے محترمہ گاندھی کے دور اقتدار میں کیے گئے مختلف معاہدوں اور فیصلوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ملک کو یہ جاننے کا حق ہے کہ اس دور میں سفارتی اور اسٹریٹجک فیصلے کن حالات اور بنیادوں کے تحت کیے گئے تھے۔ تریویدی نے کہا کہ 1971 کی جنگ میں ہندوستان کی فیصلہ کن فتح کے بعد، شملہ معاہدے کے بہت سے پہلوؤں پر اب بھی بحث و مباحثہ کی گنجائش ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ 93 ہزار پاکستانی جنگی قیدیوں کو رہا کرنے اور 54 لاپتہ ہندستانی فوجیوں کو واپس نہ لینے کا فیصلہ کس اسٹریٹجک سوچ کے تحت کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ تاریخی جائزہ کا متقاضی ہے۔ تریویدی نے محترمہ گاندھی کے دور میں 1974 میں کچاتیوو جزیرہ سری لنکا کے حوالے کرنے کے فیصلے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس طرح کے جغرافیائی سیاسی معاہدوں میں شفافیت ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سمندری حدود اور ماہی گیروں کے مفادات سے متعلق مسائل پر مناسب قومی بحث ہونی چاہیے تھی۔ تریویدی نے سرد جنگ کے دور کا بھی حوالہ دیا۔ برطانوی مؤرخ پال ایم میک گار کی کتاب، اسپائنگ ان ساؤتھ ایشیا: برٹین، یونائٹڈ اسٹیٹس اینڈ انڈیا سیکریٹ کولڈ وار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کی ہندوستان میں سرگرمی کے دعوے کیے گئے ہیں۔ سرد جنگ کے دوران، ہندوستان کے اندرونی معاملات اور سیاست میں غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی فعال دلچسپی اور اثر و رسوخ تھا۔ کتاب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے ہندوستانی سیاست میں دو مواقع پر مداخلت کی اور حکمران جماعت کو فنڈز فراہم کئے ۔ ان دعووں کا تناظر اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے دور سے جوڑا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے سنگین الزامات پر کانگریس پارٹی کی طرف سے واضح وضاحت آنی چاہیے ۔
اس تناظر میں، مسٹر تریویدی نے وکی لیکس اور دیگر ذرائع میں نقل کیا گیا امریکی جوہری تجزیہ کار رچرڈ بارلو کے تبصروں کا بھی حوالہ دیا جارہا ہے ۔ ان کے مطابق 1980 کی دہائی کے اوائل میں پاکستان کے کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کو تباہ کرنے کی تجویز منظر عام پر آئی تھی، جس میں اسرائیل کے ممکنہ کردار کا ذکر کیا گیا۔ دعوے کے مطابق اس وقت ہندوستان نے اس آپشن کو آگے نہیں بڑھایا۔ یہ مسئلہ آج بھی تزویراتی اور اخلاقی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے ۔
مسٹر ترویدی نے کہا کہ محترمہ گاندھی کے دور میں بہت سے فیصلے ہندوستان کی خارجہ پالیسی اور سلامتی کو متاثر کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ کا غیر جانبدارانہ جائزہ جمہوریت کا حصہ ہے اور مستقبل کی پالیسیوں کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کر سکتا ہے ۔
مسٹر ترویدی نے مطالبہ کیا کہ کانگریس پارٹی باضابطہ طور پر ان مسائل کا جواب دے اور قوم کے سامنے اپنی پوزیشن واضح کرے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام اب حقائق اور دستاویزات کی بنیاد پر جواب چاہتے ہیں سیاسی بیان بازی نہیں۔
مسٹر ترویدی نے کہا کہ بی جے پی تاریخی فیصلوں پر بحث سے پیچھے ہٹنے والی نہیں ہے اور آنے والے دنوں میں اس طرح کے موضوعات کو مزید تفصیل سے اٹھائے گی۔