ہر بات پر بی جے پی کا نام لینے سے کانگریس مزید مضبوط ہورہی ہے
حیدرآباد یکم؍ ستمبر، ( سیاست نیوز) قومی سیاست پر توجہ دینے والے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کیلئے تلنگانہ میں ماحول سازگار نظر نہیں آرہا ہے۔ ٹی آر ایس قائدین کے اختلافات اور گروپ بندیاں قیادت کیلئے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ دیہی علاقوں میں کانگریس و شہری علاقوں میں بی جے پی مستحکم ہو رہی ہے۔ چندر شیکھر راؤ ، ریاستی وزراء اور ٹی آر ایس عوامی نمائندوں کے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنانے سے اس کا راست کانگریس کو فائدہ ہوتا نظر آرہا ہے۔ تلنگانہ کے 33 اضلاع میں ٹی آر ایس قائدین کے آپسی اختلافات ہیں۔ عوام نے دوسری مرتبہ ٹی آر ایس کو اقتدار حوالے کیا ہے جس سے ریاست میں مخالف حکومت لہر بھی عام بات ہے۔ حکومت نے سماج کے مختلف طبقات سے کئی وعدے کئے ان پر عمل نہ ہونے سے بھی عوام میں حکومت کے خلاف ناراضگی ہے۔ ٹی آر ایس و مرکزی بی جے پی حکومتوں کی عوام دشمن پالیسیوں سے تلنگانہ کے عوام دونوں سے ناراض ہیں اور متبادل کے طور پر کانگریس کو دیکھ رہے ہیں۔ بی جے پی میڈیا اور سوشیل میڈیا میں شور شرابہ کررہی ہے اور مذہبی جذبات کو ابھار کر سیاسی فائدہ اٹھانے کوشش کررہی ہے مگر زمینی حقائق الگ ہیں۔ بظاہر کانگریس قائدین میں اختلافات نظر آرہے ہیں مگر عوام کانگریس پر بھروسہ جتارہے ہیں۔ ریونت ریڈی کے صدر پردیش کانگریس نامزد ہونے کے بعد کانگریس کارکنوں میں جوش و خروش پیدا ہوا ۔ کانگریس قائدین اب گاندھی بھون میں بیٹھ کر حالات پر تبصرہ کی بجائے اسمبلی حلقوں پر قیام کرکے عوامی مسائل پر جدوجہد اور عوام سے
رابطہ بنانے کوشش کررہے ہیں۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ ایک طرف اسمبلی تحلیل کرکے دوبارہ قبل از وقت انتخابات کرانا چاہتے ہیں مگر پارٹی قائدین کے اختلافات اور گروپ بندیوں سے وہ زیادہ خوفزدہ نظر آرہے ہیں۔ سیاسی حکمت عملی ساز پرشانت کشور کی ٹیم کی خدمات سے استفادہ کرکے حکومت کی کارکردگی ، فلاحی اسکیمات، ترقی ، ارکان اسمبلی کی کارکردگی اور عوامی رجحان کو جاننے مختلف امور پر سروے کرائے جارہے ہیں۔ پہلے ہی ٹی آر ایس کے 40 تا 50 ارکان اسمبلی کی کارکردگی سے عوام ناخوش ہیں اور انہیں تبدیل نہ کرنے پر ٹی آر ایس کیلئے پیچیدگیاں پیدا ہونے کی رپورٹس ملی ہیں۔ ذرائع سے پتہ چلا کہ ٹی آر ایس قیادت نے چند اسمبلی حلقوں میں ٹی آر ایس ارکان کونسل، مختلف کارپوریشن صدورنشین اور پارٹی کے دوسرے درجہ کے قائدین کو متحرک ہونے کا اشارہ دیا ۔ اس کے علاوہ چند قائدین خود دعویدار بن کر اُبھررہے ہیں ساتھ ہی سابق ارکان اسمبلی بھی اپنی قسمت آزمارہے ہیں جس سے ٹی آر ایس قائدین میں رسہ کشی بڑھ گئی ہے اور یہ قائدین کھلے عام ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بناکر گروپ بندیوں کو فروغ دے رہے ہیں۔ ایک طرف پارٹی کے قائدین علحدہ پروگرام کررہے ہیں تو دوسری طرف چند قائدین پارٹی سرگرمیوں سے خود کو دور رکھے ہیں اور کانگریس و بی جے پی سے رابطہ میں ہیں جس سے قیادت پریشان ہے۔ پارٹی قائدین میںصلح کی کوشش رائیگاں ہیں۔ شائد ٹی آر ایس کو کانگریس اور بی جے پی سے زیادہ خود پارٹی قائدین کی باغیانہ سرگرمیوں سے نقصان ہو رہا ہے۔ ن