فروخت نہ ہونے والے مکانات کی تعداد 2020 کے پہلے ششماہی میں 4,037 سے بڑھ کر 2021 میں 11,918 ہوگئی
حیدرآباد ۔ 28 اگست (سیاست نیوز) گذشتہ چھ سال تک حیدرآباد کے ریئل اسٹیٹ شعبہ میں گرم بازاری کے بعد، اراضی اور اپارٹمنٹ قیمتوں میں ہوئے بے تحاشہ اضافہ کی وجہ یہ کئی لوگوں کیلئے ان کی گنجائش میں نہیں رہے اور اس کی وجہ پلاٹس اور فلیٹس کے رجسٹریشنس میں بڑی گراوٹ آگئی ہے۔ خریدار اب قیمتوں میں کمی ہونے کا انتظار کررہے ہیں اور کئی لوگ جو پہلے سرمایہ کاری کیلئے زمین اور مکانات خریدنے میں کافی دلچسپی لے رہے تھے اب مارکٹ کی موجودہ حالت پر حیرت کررہے ہیں۔ 2021ء کے پہلے نصف (H1) کیلئے نائٹ فرینک کی ریسیڈنشیل مارکٹ رپورٹ میں اس تبدیل شدہ منظر کو نمایاں کیا گیا ہے۔ 2020 کے پہلے نصف کے مقابل جب فروخت نہ ہونے والے مکانات کی تعداد 4,037 تھی، 2021 کے پہلے نصف (H1) میں یہ تعداد 11,918 ہوگئی جو فکرمندی کی بات ہے۔ کیا حیدرآباد میں ریئل اسٹیٹ شعبہ میں آیا غبار چھٹے گا؟ اس رپورٹ میں کہا گیا کہ حالانکہ حیدرآباد کی رہائشی مکانات مارکٹ میں H12020 کے مقابل H12021 میں مانگ اور سپلائی کے معاملہ میں سہ ماہی لحاظ سے ایک اضافہ ریکارڈ کیا گیا لیکن 2021 کے دوسرے سہ ماہی (Q2) میں لانچس اور فروخت میں مسلسل کمی ہوئی۔ آسمان کو چھوتی اراضی قیمتوں کی وجہ خواہشمند خریدار پیشرفت نہیں کررہے ہیں۔ مثال کے طور پر حکومت کی جانب سے نظرثانی کی گئی قیمتوں کے مطابق گنڈی پیٹ میں زمین کی مارکٹ قیمت 17,000 روپئے فی مربع گز ہے۔ تاہم اراضی مالکین ایک لاکھ روپئے فی مربع گز سے زیادہ کی مانگ کررہے ہیں۔ سرورنگر میں بالخصوص ساگر وڈ پر چمپاپیٹ کے رخ پر اراضی مالکین حکومت کی جانب سے نظرثانی کی گئی مارکٹ قیمت 28,000 روپئے فی مربع گز کے مقابل 1.5 لاکھ روپئے فی مربع گز کا مطالبہ کررہے ہیں۔ اپرنا کنسٹرکشنس اینڈ اسٹیٹس کے ڈائرکٹر سی وی ریڈی کا کہنا ہیکہ شہر حیدرآباد میں گذشتہ چند ماہ میں رئیل اسٹیٹ شعبہ سست روی کا شکار ہوگیا۔ ریڈی نے کہا کہ ’’زمین کی قیمتوں میں ہوئے بے تحاشہ اضافہ اور رجسٹریشن چارجس میں اضافہ کی وجہ خریدار آگے نہیں آرہے ہیں۔ اسٹامپ ڈیوٹی چارجس میں 1.5 فیصد تک اضافہ سے رجسٹریشن کے عمل کے دوران خریداروں پر اثر پڑے گا۔ صرف 50 لاکھ روپئے تا 1.10 کروڑ روپئے رینج کے یونٹس ہی کی کچھ مانگ ہے جبکہ ان سے زیادہ قیمت کے مکانات کی فروخت میں کوئی مثبت رجحان نہیں دیکھا جارہا ہے‘‘۔