واشنگٹن / برلن / ممبئی : یوں تو اس وقت کچھ ممالک کے سوائے پوری دنیا کو کووڈ کی لپیٹ میں کہا جاسکتا ہے لیکن جو حالت اس وقت امریکہ اور ہندوستان کی ہے ویسی حالت شاید کسی دیگر ممالک کی نہیں ہے ۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ تقریباً ہر متاثرہ ملک میں ٹیکہ اندازی کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے لیکن عالمی صحت تنظیم نے ابھی بھی عالمی اقوام کو ڈرانے کا سلسلہ بند نہیں کیا ہے ۔ پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر پیش کیا گیا ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ چین جہاں سے کورونا شروع ہوا ، وہاں اب حالات بالکل معمول پر آگئے ہیں ۔ بعض حکومتیں کورونا میں اضافہ کا سارا الزام عوام کے سر تھوپ رہی ہیں اور یہ سمجھ رہی ہیں کہ ایسا کرنے سے وہ اپنا دامن جھاڑ لیں گی لیکن حقیقیت اس کے برعکس ہے ۔ عوام کو جس طرح ڈرایا دھمکایا جارہا ہے اور مختلف خلاف ورزیوں پر خصوصی طور پر ہندوستان میں جرمانہ وصول کرنے کا جو سلسلہ چل پڑا ہے وہ پتہ نہیں کہاں جاکے رکے گا ؟ ۔ عوام اپنی طرف سے پورا احتیاط برت رہے ہیں چاہے وہ ماسک کا استعمال ہو ، سماجی فاصلہ کا ہو یا پھر چہرے کا شیلڈ کا استعمال ہو ۔ عبادت گاہوں سے لے کر سنیما ہالس اورمالس سب بند ہیں تو پھر آخر کورونا کیسے پھیل رہا ہے ۔
