’کیا راہول سکھ برادری کے زخموں پر نمک چھڑکنا چاہتے ہیں؟‘

   

یکم نومبر 1984 کو ہی سکھوں کا قتل عام ہوا تھا، بی جے پی ایم پی روی شنکر پرساد کی پریس کانفرنس

نئی دہلی۔ 24 اکتوبر (یو این آئی) بی جے پی نے کانگریس کی جانب سے یکم نومبر کو یہاں کے رام لیلا میدان میں مجوزہ ریلی پر تنقید کرتے ہوئے اسے سکھ برادری کے زخموں پر نمک چھڑکنے والا قدم قرار دیا۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ روی شنکر پرساد نے ہفتہ کو پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یکم نومبر سکھ برادری کے جذبات سے وابستہ دن ہے ، کیونکہ 1984 میں اسی دن قتل عام ہوا تھا۔ سکھ برادری اس دن کو انتہائی دکھ اور تکلیف کے ساتھ یاد کرتی ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ کانگریس لیڈر راہول گاندھی یکم نومبر کو ہی دہلی میں ریلی کرنے پر کیوں بضد ہیں؟ کیا وہ یکم نومبر کو رام لیلا میدان میں ریلی کرکے سکھ برادری کے زخموں پر نمک چھڑکنا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہ راہول کا اصل چہرہ ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں ضدی ہوں، بہت ضدی ہوں اور کسی کی بات نہیں سنتا! میری ضد یہ ہے کہ میں ظالمانہ طریقہ سے سکھ برادری کے جذبات کا مذاق اڑاؤں گا۔ بی جے پی لیڈر نے کہا کہ جب ان کے والد راجیو گاندھی ہندوستان کے وزیر اعظم تھے ، تو اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے بدقسمتی سے قتل اور اس کے بعد ہونے والے فسادات کے تناظر میں انہوں نے ایک انتہائی مشہور بیان دیا تھا اور کہا تھا کہ جب کوئی بڑا درخت گرتا ہے تو زمین ہلتی ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان لوگوں نے 1984 کے فسادات کی سنگینی کو کم کرکے دکھانے اور ان کے ذمہ دار لوگوں کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ آج مجھے فخر ہے کہ جب مودی حکومت اقتدار میں آئی تو خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی تشکیل کا اعلان کیا گیا۔ جن سکھوں کا قتل ہوا تھا، ان کے اہل خانہ کو پانچ پانچ لاکھ روپے کا معاوضہ دیا گیا اور دہلی میں ہزاروں لوگوں کو بھی یہ معاوضہ ملا۔ بعد میں کئی قصورواروں کو سزا بھی ہوئی اور بعض کو سزائے موت تک دی گئی۔ پرساد نے سوال کیا کہ راہول یکم نومبر کو کیا کرنا چاہتے ہیں؟ کیا وہ ہنگامہ آرائی، افراتفری یا توڑ پھوڑ کرنا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں پوری ذمہ داری کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ راہول گاندھی کی قیادت میں دہلی میں اب تک ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں شائستگی کی تمام حدیں پار کی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دہلی کے تجارتی و صنعتی چیمبر نے راہول گاندھی کو خط لکھ کر درخواست کی ہے کہ براہ کرم یکم نومبر کی ریلی ملتوی کر دی جائے اور تاجروں کے مفاد میں اس ریلی کو 10 نومبر کے بعد منعقد کرنے پر غور کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ راہول ، آپ کو بی جے پی اور نریندر مودی جی سے چڑ ہے ، لیکن کیا آپ کو ملک کے عام لوگوں اور تاجروں سے بھی چڑ ہے ؟ آپ ان کی بات سننے کیلئے بھی تیار نہیں ہیں، یہ آپ کی ضد ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے طالب علم ہونے کے ناطے میں پہلی بار پوری ذمہ داری کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ ہندوستان کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی کسی نے سپریم کورٹ یا کسی دوسری عدالت کا گھیراؤ کرنے کی ہمت نہیں کی۔
کسی سیاسی جماعت، لیڈر یا تنظیم نے کسی عدالت کے باہر گھیراؤ یا مخالفانہ مظاہرہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اس دوران بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نے یہاں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں متنازعہ نعروں کے لکھے جانے کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش کانگریس کے کارگزار صدر اور رکن پارلیمنٹ عمران مسعود کیا کر رہے تھے ؟ وہاں دیواروں پر ’کشمیر کو آزاد کرو‘ اور ’شرجیل امام کو رہا کرو‘ جیسے نعرے لکھے ہوئے ہیں۔ وہ وہاں جا رہے ہیں، اس کا کیا مطلب ہے ؟ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کانگریس سے پوچھنا چاہتی ہے کہ کیا کانگریس جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بڑے بڑے حروف میں لکھے ہندوستان سے کشمیر کو الگ کرنے کے مطالبے کی حمایت کرتی ہے ؟ ہندوستان کو توڑنے کی بات کرنے والے شرجیل امام کے بارے میں کانگریس پارٹی کا کیا موقف ہے ؟ وہاں پوری چار دیواری پر بڑے بڑے حروف میں ’کشمیر کو آزاد کرو‘اور ’شرجیل امام کو رہا کرو‘کے نعرے لکھے ہوئے ہیں۔