غیرمجاز قبضہ جات کو روکنے شعور بیداری ناگزیر ، وقف کمیٹی کو ذمہ داری نبھانے کی ضرورت
بیدر : کورونا کی تیسری لہر خطرناک تونہیں ہے لیکن جاری ہے۔ کورونا کی پہلی لہر سے تیسری لہر تک یعنی 30جنوری کو کوروناکی پیدائش کے پورے دوسال مکمل ہوچکے ہیں۔ کانگریس کی صدرمسز سونیاگاندھی نے دوسال قبل کہاتھاکہ کوروناپر قابوپانے کے لئے دوسال لگ سکتے ہیں ۔ دوسال ہوچکے ہیں عین ممکن ہے کہ کورونا کی خطرناکی ختم ہوجائے لیکن ہماراموضوع کورونا کی لہریاکورونا نہیں ہے۔ بلکہ ہم یہ بات ارباب ِ مجاز سے پوچھناچاہتے ہیں کہ کوروناکی ان تینوں لہروں کے درمیان کتنی اراضی پر لینڈمافیا نے قبضہ کیا؟اور یہ اراضی سرکاری کتنی تھی اور خانگی افراد اور اداروں کی کتنی رہی۔ کہاں کہاں قبضہ جات کے بعد ڈیلنگ ہوئی اور دے دِلاکر قبضے ہٹائے گئے۔ کتنوں پر مقدمات درج ہوئے اور سب سے اہم بات یہ کہ ضلع بیدر کی کس کس وقف اراضی پر کہاں کہاں قبضے ہوئے ہیں ؟ قابض افراد نے کہاں فینسنگ کی ہے اور کہاں کہاں تعمیرات مکمل ہوئی ہیں یاشروع ہوئی ہیں۔ ایک اطلاع کے بموجب کورونا کی تینوں لہروں کے درمیان بیدر ضلع میں بے تحاشہ خانگی جائز تعمیرات ہوئیں (اور ہورہی ہیں)لیکن غیرمجاز تعمیرات جو وقف اراضی پر کی گئی ہیں، وہ کتنی ہیں ؟ کیااس سوال کاجواب ضلع انتظامیہ یاحکومت دے گی ؟ ہم سروے نمبرات نہیں بتائیں گے لیکن اس بات پر تشویش لاحق ہے کہ وقف اراضی کو بچانے کے لئے ضلع وقف مشاورتی کمیٹی ،اور محکمہ اوقاف بیدر نے کچھ نہیں کیا۔(اگر کیاہے تو وہ باتیں اخبارات تک نہیں پہنچائیں ) اور نہ ہی ضلع انچارج وزیر کے ڈی پی میٹنگ میں اوقافی اراضی سے متعلق سوالات کرتے ہیں اور اس کے تحفظ سے متعلق کوئی بیان دیتے ہیں۔ بھلے جو کوئی بھی ضلع انچارج وزیر ہو۔ دوسری جانب محکمہ اوقاف سے کیا اتنابھی نہیں ہوسکتاکہ وہ اخبارات کے ذریعہ انتباہ دے کہ فلاں فلاں کام نہ کیاجائے۔فلاں سروے نمبر سے دور رہاجائے۔اور یہ کہ وقف اراضی پر تعمیرات سے آج نہیں تو کل آپ ہی کا نقصان ہوگا۔فوجداری مقدمہ درج ہوسکتاہے وغیرہ وغیرہ ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ محکمہ اوقاف سال میں دوتین مرتبہ وقف اراضی سے متعلق ریاستی سطح پر شعوربیداری مہم انجام دے جس میں ضلع سطح پر ڈپٹی کمشنر اور تعلقہ سطح پر تحصیلدار حصہ لیں۔ اور جہاں کہیں وقف اراضی پر قبضہ جات ہورہے ہیں ان کوفوراً برخواست کیا جائے۔ اگر ایسانہیں کیاگیاتو کہہ نہیں سکتے کہ لینڈ مافیا سے وقف اراضی بچ سکے گی بھی یانہیں ؟ اوراس میں حکومت کا ہاتھ بھی مانا جائیگا۔
