کیا عہدیدار تلنگانہ میں وقف ترمیمی قانون پر عمل کی کوشش کر رہے ہیں ؟

   

وقف بورڈ اجلاس کے انعقاد سے قبل قانونی رائے لینے سی ای او سرگرم ۔ بورڈ کے مفادات کے مغائر اقدامات

حیدرآباد29اپریل(سیاست نیوز) ترمیم شدہ وقف ایکٹ نے کسی بھی وقف بورڈ اجلاس کے انعقاد میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کی اور نہ یہ کہا گیا کہ بورڈ اجلاس نہ ہو یا بورڈ کی کارکردگی کو مفلوج کردیا جائے لیکن تلنگانہ کے عہدیدار اور وقف بورڈ چیف اکزیکیٹیو آفیسر شائد مرممہ وقف ایکٹ سے دو قدم آگے آکر ایسے اقدامات کررہے ہیں جو بورڈ کے مفادات کے مغائر ہے۔ تلنگانہ وقف بورڈ اجلاس میں رکاوٹوں پر کہا جا رہا ہے کہ اجلاس کے انعقادکے متعلق قانونی رائے لینے کی کوشش کی جار ہی ہے ۔ کہا جا رہاہے کہ مرکز کے مرممہ وقف ایکٹ کا نفاذ 8 اپریل سے ہوچکا ہے تو کیا تلنگانہ وقف بورڈ اجلاس منعقد کیا جانا چاہئے یا نہیں !چیف اکزیکیٹیو آفیسر کی جانب سے قانونی رائے کیلئے مکتوب کی تیاری کی اطلاعات ہیں جو وقف بورڈ اجلاس کے انعقاد میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کے مترادف ہے۔ اگر سی ای او کو وقف ایکٹ کی اتنی پرواہ ہے تو وہ 6 ماہ سے بورڈ کے چیف اکزیکیٹیو آفیسر کے عہدہ پر فائز ہیں اور وقف ایکٹ 2013کے مطابق بورڈ کا اجلاس مہینہ میں ایک مرتبہ یا کم از کم تین ماہ میں ایک مرتبہ ہونا چاہئے لیکن 24اکٹوبر 2024 کو سی ای او کی خدمات کے حصول کو منظوری دینے اجلاس کے بعد اب تک کوئی اجلاس منعقد نہیں ہوا اور اب جبکہ بورڈ اجلاس کے عدم انعقاد پر استفسار کئے جانے لگے ہیں تو سی ای او حکومت کو مرممہ ایکٹ کے نفاذ کے متعلق تفصیلات واقف کرواتے ہوئے اجلاس کیلئے اجازت طلب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ذرائع کے بموجب بعض مسلم دشمن اعلیٰ عہدیدار اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے ماتحت عہدیداروں کو ان کے موافق کام کرنے اور وقف ایکٹ 2024 پر عمل کیلئے راہیں ہموار کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں ۔ تلنگانہ کے علاوہ ملک بھر میں مخالف بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں اعلان کیا جاچکا ہے کہ وقف ترمیمی ایکٹ پر عمل نہیں ہوگا لیکن بعض عہدیدارحکومت کو یہ باور کروانے کی کوشش کر رہے ہیںکہ وقف ایکٹ کا نفاذ ہو چکا ہے اور اس پر عمل کیلئے قانونی رائے حاصل کی جانی چاہئے حالانکہ ملک بھر میں مرممہ وقف ایکٹ کے خلاف مسلمان سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں ۔ ایسے میں تلنگانہ وقف بورڈ سی ای او ایکٹ کے نفاذ کے متعلق قانونی رائے حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیںجو ایکٹ قبول کرنے جیسا ہے۔ وقف ایکٹ 1995یاوقف ایکٹ2013 سے متعلق جو اصول و ضوابط تلنگانہ میں بنائے گئے ان کے مطابق وقف بورڈ کا اجلاس کم از کم 2ماہ میں ایک مرتبہ لازمی منعقد ہونا چاہئے تھا لیکن گذشتہ 6ماہ سے اجلاس کے عدم انعقاد کے ذریعہ قانون کی خلاف ورزی کی جاتی رہی اور اب مرممہ وقف قوانین 2024کی شق17(1) کے مطابق بورڈ کو لازمی ہر ماہ اجلاس کرنا ہوگا۔ چیف اکزیکیٹیو آفیسر یا دیگر اعلیٰ عہدیداراگر مرممہ وقف قوانین کا حوالہ دے کر یا ان کے متعلق قانونی رائے حاصل کرکے وقف بورڈ اجلاس کے انعقاد میں رکاوٹ پیدا کرنا چاہتے ہیں اور تلنگانہ میں مرممہ وقف ایکٹ 2024 کے نفاذ کی راہیں ہموار کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ بھی جان لینا چاہئے کہ مرممہ وقف قوانین کے اعتبار سے چیف اکزیکیٹیو آفیسر کے عہدہ پر جوائنٹ سیکریٹری رتبہ کے حامل عہدیدارکو ہی فائز کیا جاسکتا ہے اور اگر مرممہ وقف قوانین کے نفاذ کی راہ ہموار کی جاتی ہے تو موجودہ چیف اکزیکیٹیو آفیسر کا تقرر غیر قانونی ہوجائیگا۔3