کیا عیدالفطر کے بعد لاک ڈاؤن ہوگا ؟ ۔ گیس کی قلت کے بعد اندیشے لاحق

   

عوامی برہمی پر قابو پانے کیلئے کیا جاسکتا ہے سخت فیصلہ ۔ ایران کے خلاف جنگ کے خطرناک اثرات ۔ دنیا کے بیشتر ممالک کی معیشتیں متاثر

 محمد مبشرالدین خرم

حیدرآباد : 12 مارچ۔ ہندوستان میں عیدالفطر کے بعد نئے لاک ڈاؤن کی تیاری شروع کردی گئی ہے! ، سال 2020 میں کورونا وائرس سے نمٹنے 22مارچ کو ’جنتا کرفیو‘کا اعلان کیا گیا تھا اور 25 مارچ 2020 سے جو لاک ڈاؤن کا سلسلہ شروع ہوا تو مرحلہ وار یہ سلسلہ 31 مارچ 2022 تک جاری رہا۔ایران ۔اسرائیل اور امریکہ کی جنگ نے اب عالمی جنگ کی نوعیت اختیار کرنی شروع کردی ہے اور بیشتر خلیجی ممالک میںایرانی حملوں کے پیش نظر ’ورک فرم ہوم‘ شروع کردیا گیا تھا اوراب لاک ڈاؤن میں شروع ہوئی ’ورک فرم ہوم‘ کی یہ وباء ویتنام سے ہوتے ہوئے دیگر ممالک تک پہنچنے لگی ہے تاکہ تیل اور گیس کی کھپت کو کم کیا جاسکے ۔ خلیجی ممالک بالخصوص متحدہ عرب امارات (دبئی‘ ابوظہبی ‘ شارجہ )کے علاوہ قطر ‘ سعودی عرب ‘ و دیگر ممالک میں موجود بین الاقوامی بینک اپنی شاخوں اور کاروبار بند کرنے لگے ہیں ۔ ہندوستان میں گیس کی قلت نے عوام کو سڑکوں پر لاکھڑا کیا ہے اور ہوٹل و ریستورنٹس کے علاوہ ہاسٹل‘ گیسٹ ہاؤز وغیرہ کے کاروبار شدید متاثر ہونے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مرکزی حکومت نے ملک میں گیس کے ذریعہ برقی پیداوار کے پراجکٹس کو گیس کی سربراہی بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کیلئے پیش کی گئی دلیل میں کہاجار ہاہے کہ حکومت سے صنعتی اور تجارتی گیاس کی سربراہی کو کم کرکے گھریلوپکوان گیس کی سربراہی کو معمول کے مطابق رکھنے اقدامات کئے جا رہے ہیں اس کے باوجود مرکزکے فیصلہ کے مطابق شہری علاقوں میں گیس کی بکنگ کے بعد 25دن میں گیس سربراہ کرنے کی مہلت دے دی گئی ہے جبکہ دیہی علاقوں میں بک کروائی جانے والی گیس کی سربراہی کیلئے 45یوم کا وقت درکار ہوگا۔ ملک میں تیل کی قلت کے ابھی کوئی آثار نہیں ہیں لیکن کئی شہروں میں پٹرول پمپس پر قطاریں دیکھی جانے لگی ہیں اور پٹرول پمپ مالکین کو ڈیلر مکمل رقم کی ادائیگی پر پٹرول اور فراہم کر رہے ہیں ۔ بتایاجاتاہے کہ ایران نے جس انداز سے دنیا بھر کے بیشتر ممالک کی معیشت کو متاثر کرنے کی جنگی حکمت تیار کی ہے اس کے نتیجہ میں دشمن ممالک کے دوست ملک یا وہ ممالک کو ایران کو معمولی تصور کر رہے تھے وہ تمام متاثر ہونے لگے ہیں۔ایران کے آبنائے ہرموز کو بند کرنے کے فیصلہ کے ساتھ ہی دنیا بھر میں تیل کی قلت کے خدشات کے نتیجہ میں توجہ پٹرول اور ڈیزل پر ہی مرکوز رہی لیکن اس جنگ کے دوران اندرون 12یوم ایران نے دنیا بھر کی زائد از 41 ہزار پروازوں کو منسوخ کروانے کے علاوہ دنیا کے کئی ممالک بالخصوص برصغیر میں گیس کی قلت پیدا کرنے کے ساتھ مغربی ممالک جو جنگ کا حصہ نہیں ہیں لیکن ایران کے ساتھ بھی نہیں ہیں ان ممالک کے اسٹاک مارکٹ کو کچھ نہ کرتے ہوئے بھی تباہ کردیا ہے۔ ہندوستان میں پیدا ہونے والی گیس کی قلت کے بعد اب تیل کے علاوہ دیگر اجناس کی قلت کے بھی آثار پیدا ہونے لگے ہیں اور کہا جارہاہے کہ اگر صورتحال پر حکومت قابو پانے سے قاصر رہتی ہے تو عوام کو کنٹرول کرنے ’لاک ڈاؤن‘ کا نفاذ عمل میں لانے اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔ہندوستان میں 20 یا 21 مارچ کو عیدالفطر منائے جانے کا امکان ہے اور کانگریس کے علاوہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ پرکاش امبیڈکر نے مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف 23 مارچ کو آر ایس ایس کے مرکزی دفترواقع ناگپور کے روبرو احتجاجی دھرنا منظم کرنے اعلان کیا ہے ۔ ملک بھر کے عوام میں ناراضگی کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ حکومت کے خلاف عوامی برہمی میں پیدا ہونے والی شدت پر قابو پانے مرکز عوامی اجتماعات کے علاوہ دھرنوں اور احتجاجی مظاہروں پر پابندی عائد کرنے کوئی بھی فیصلہ کرسکتا ہے۔