حیدرآباد۔2۔نومبر۔(سیاست نیوز) پرانے شہر کے دو حلقہ جات اسمبلی میں مجلس کے امیدواروں کے لئے ’’خطروں کی گھڑی‘‘ کے طور پر انگریزی ذرائع ابلاغ میں بھی قیاس آرائیاں شروع ہوچکی ہیں اور کہا جا رہاہے کہ حلقہ اسمبلی نامپلی کے علاوہ حلقہ اسمبلی ملک پیٹ میں مجلس کو سخت مقابلہ درپیش ہے جبکہ مجلس کی جانب سے ابھی امیدواروں کا اعلان نہ کئے جانے کے نتیجہ میں حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ اور حلقہ اسمبلی چارمینار کے متعلق کوئی قیاس آرائی نہیں کی جا رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ ان دو حلقہ جات اسمبلی پر مجلس کے قطعی امیدواروں کے اعلان کے بعد ہی حقیقی صورتحال سے آگہی حاصل ہوسکتی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ مجلسی قیادت اپنے 7حلقہ جات اسمبلی پر قبضہ برقرار رکھنے کے لئے تمام حربے اختیار کرنے کے لئے تیار ہے اور اس مرتبہ مجلس اتحاد المسلمین نے امیدواروں کے اعلان کے سلسلہ میں کافی غور و خوض جاری رکھا ہوا ہے۔انگریزی اخبارات میں شائع ہونے والے تبصروں میں کہا جا رہاہے کہ ریاست بھر میں جاری کانگریس کی لہر اور بھارت راشٹرسمیتی کی جانب سے مسلمانوں کے ساتھ کی جانے والی دھوکہ دہی کے باوجود مجلس کی بی آر ایس کو تائید کے سبب مسلم رائے دہندے مجلس سے دور ہونے لگے ہیں اور مجلس کے گڑھ تصور کئے جانے والے حلقہ جات اسمبلی میں بھی مجلسی امیدواروں کو عوامی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ عام طور پر خاموش رائے دہندوں کی جانب سے کی جانے والی رائے دہی امیدواروں کی کامیابی و ناکامی کا سبب بنتی ہے اور اس مرتبہ اپنے نظریات کے متعلق مکمل خاموشی اختیار کرنے والے رائے دہندوں کی مجموعی فیصد جو کہ عام طور پر 20تا22 فیصد ریکارڈ کیا جاتا ہے اس میں دوگنا اضافہ ہوا ہے جو کہ صورتحال کو یکسر تبدیل کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔شہر حیدرآباد کے حلقہ جات اسمبلی میں جہاں سے مجلس اتحادالمسلمین کے ارکان اسمبلی منتخب ہوا کرتے تھے ان حلقہ جات اسمبلی میں عام طور پر جماعت کے نام پر ووٹ دینے کا رجحان ہوا کرتا تھا لیکن اس مرتبہ بیشتر حلقہ جات اسمبلی میں نوجوانوں کی جانب سے حلقہ جات اسمبلی کی ترقی کے سلسلہ میں استفسار کئے جانے لگے ہیں اور کہا جار ہاہے کہ پرانے شہر میں میٹرو سے انفارمیشن ٹکنالوجی پارک ہی نہیں بلکہ جونئیر اور ڈگری کالجس کے قیام کے سلسلہ میں استفسار کیا جا رہاہے ۔ حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ ‘ حلقہ اسمبلی بہادرپورہ دو ایسے حلقہ جات اسمبلی ہیں جہاں ایک بھی سرکاری جونئیر یا ڈگری کالج موجود نہیں ہے اور نہ ہی ان دوحلقہ جات اسمبلی میں کوئی ایریا ہاسپٹل موجود ہے جہاں ان حلقہ جات اسمبلی کے عوام کی تعلیم اور ان کے حفظان صحت کے سلسلہ میں کوئی اقدامات کئے جاسکیں۔ اسی طرح دیگر حلقہ جات اسمبلی بالخصوص حلقہ اسمبلی نامپلی اور ملک پیٹ میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں اقدامات نہ کئے جانے کی وجہ سے عوام میں شدید ناراضگی پائی جانے لگی ہے۔ حلقہ اسمبلی نامپلی جہاں تعلیم یافتہ افراد کی تعداد قابل لحاظ ہے ان کا کہنا ہے کہ دو مرتبہ موقع دینے کے باوجود حلقہ اسمبلی کی صورتحال میں کوئی نمایاں تبدیلی ریکارڈ نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی کوئی نئے پراجکٹس حلقہ اسمبلی نامپلی میں شروع کئے گئے بلکہ بعض علاقوں میں گذشتہ 10 برسوں سے جو مسائل ہیں وہ جوں کے توں برقرار ہیں اسی لئے وہ تبدیلی کے خواہاں ہیں ۔ اسی طرح حلقہ اسمبلی ملک پیٹ کی خواندگی بھی دیگر حلقہ جات اسمبلی کے مقابلہ میں بہتر ہے اسی لئے اس حلقہ کے عوام نے بھی اب تبدیلی کے متعلق غور کرنا شروع کردیا ہے کیونکہ 10 سال قبل ملک پیٹ میں انفارمیشن ٹکنالوجی پارک کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اب مسلسل دباؤ کے بعد عین انتخابات سے قبل محض سنگ بنیاد رکھا گیا ہے جو کہ عوام کو ایک مرتبہ پھر سے گمراہ کرنے کی کوشش قراردیا جا رہاہے۔ پرانے شہر کے رائے دہندوں کی جانب سے استفسار کیا جارہا ہے کہ جب جماعت کے ذمہ دار حکومت کے حلیف رہے ہیں اور 10 سال سے حکومت کی تائید کررہے ہیں اس کے علاوہ اب دوبارہ بی آر ایس کو اقتدار میں لانے کی مہم کا حصہ بن رہے ہیں تو پھر پرانے شہر کی ترقی میں کیوں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے اور کیوں پرانے شہر کے متعلق اعلان کردہ ترقیاتی کاموں کو تعطل کا شکار بناتے ہوئے ان کی تکمیل میں تاخیر کی جاتی ہے!عوام میں پائی جانے والی یہ بیداری اور نوجوانوں کے سوالات جماعت کے قائدین کے لئے مشکل ہونے لگے ہیں۔