کینٹکی، امریکہ: سائنسدانوں نے ایک مرتے ہوئے شخص کی دماغی سرگرمیوں کا تجزیہ کرنے کے بعد کہا ہے کہ شاید موت کی آغوش میں جاتے وقت زندگی بھر کی یادیں بہت تیزی سے دماغ میں ’ریوائنڈ‘ ہوتی ہیں۔یہ اتفاقیہ تحقیق یونیورسٹی آف لوئیویل ہاسپٹل، کینٹکی میں اس وقت ہوئی کہ جب 87 سال کا ایک مریض وہاں لایا گیا جسے مرگی کے شدید دورے پڑ رہے تھے۔مریض کی جان بچانے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹروں نے ایک ای ای جی آلہ بھی اس کے سر سے منسلک کردیا تاکہ اس کی دماغی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھی جاسکے۔اسپتال کا عملہ اس مریض کی جان نہیں بچاسکا، کیونکہ اسے اچانک دل کا دورہ بھی پڑگیا۔