عوام اور ملازمین میں تشویش ، محکمہ جنگلات نے منتقلی کی اطلاعات کو مسترد کردیا
حیدرآباد۔/19 جون، ( سیاست نیوز) حیدرآباد میں واقع نہرو زوالوجیکل پارک کو شاد نگر منتقل کرنے کے بارے میں حکومت کی تیاریوں کی اطلاعات نے عوام اور زو کے ملازمین میں تشویش کی لہر دوڑادی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ صوتی، فضائی آلودگی میں اضافہ اور زو سے متصل میرعالم تالاب سے پانی کے بہاؤ کو دیکھتے ہوئے حکام نہرو زوالوجیکل پارک کو شاد نگر منتقل کرنے پر غور کررہے ہیں۔ 380 ایکر اراضی پر محیط نہرو زوالوجیکل پارک کا 1963 میں افتتاح عمل میں آیا تھا۔ زو کو باغ عامہ سے میر عالم تالاب سے متصل اراضی پر منتقل کیا گیا۔ عام طور پر زو پارکس شہر کے مضافات میں قائم کئے جاتے ہیں تاکہ ٹریفک اور آلودگی کے مسائل سے بچا جاسکے۔ 1963 میں زو کا موجودہ مقام شہر کے مضافات میں شمار کیا جاتا تھا۔1963 میں بہادر پورہ کے علاقہ کا زو کیلئے انتخاب کیا گیا تھا لیکن آج وہ شہر کا گنجان آبادی والا علاقہ بن چکا ہے۔ صوتی اور فضائی آلودگی کے علاوہ اطراف کی کالونیوں سے ڈرینج کا پانی میر عالم تالاب میں داخل ہورہا ہے۔ موسلا دھار بارش کے دوران کئی مرتبہ تالاب کا پانی زو میں داخل ہوگیا۔ زو کی منتقلی کی صورت میں 380 ایکر کی یہ اراضی ترقیاتی سرگرمیوں کیلئے استعمال کی جاسکتی ہے۔ محکمہ جنگلات کے ایک عہدیدار نے زو کی منتقلی کی اطلاعات کو مسترد کردیا اور کہا کہ زو کو کسی اور مقام پر منتقل کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ عہدیدار کے مطابق گذشتہ دو دہوں سے وقفہ وقفہ سے زو کی منتقلی کی اطلاعات گشت کرتی رہی ہیں۔ منتقلی کیلئے سنٹرل زو اتھاریٹی سے مختلف منظوریاں حاصل کرنی پڑتی ہیں۔ زو کی منتقلی پر بھاری خرچ آئے گا اور صرف ٹائیگر انکلوژر کی تعمیر پر 2 تا 3 کروڑ کا خرچ آتا ہے۔ گذشتہ پانچ برسوں سے زو کی منتقلی کے بارے میں اطلاعات مختلف گوشوں میں گشت کررہی ہیں لیکن محکمہ جنگلات کے عہدیداروں نے اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی۔1