کیا پرانے شہر میں تاریخ 1994 کو دہرائے گی؟ عوام میں تبدیلی کی لہر

   

مجلس کے ارکان 4 سے گھٹ کر ایک رہ گئے تھے، 4 اسمبلی حلقہ جات میں مجلس کو سخت مزاحمت کا سامنا، نوجوانوں میں تبدیلی کا جذبہ روایتی قیادت کیلئے خطرہ کی گھنٹی
حیدرآباد ۔24۔نومبر (سیاست نیوز) حلقہ لوک سبھا حیدرآباد کے اسمبلی حلقہ جات میں کیا 1994 ء کی تاریخ دہرائی جائے گی؟ اسمبلی انتخابات کے دوران پرانے شہر کے اسمبلی حلقہ جات میں روایتی قیادت کے خلاف تبدیلی کی لہر کو دیکھتے ہوئے باشعور افراد اور مبصرین میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ کیا پرانا شہر پھر ایک بار 1994 کی تاریخ کو دہرائے گا جس وقت محمد امان اللہ خاں مرحوم کی قیادت میں مجلس بچاؤ تحریک نے دو اسمبلی نشستوں پر قبضہ کرلیا تھا اور مجلس کے ارکان کی تعداد چار سے گھٹ کر ایک رہ گئی تھی ۔ 1999 کے اسمبلی چناؤ میں مجلس بچاؤ تحریک کو شکست ہوئی اور مجلس نے پرانے شہر کے حلقوں پر اپنا کنٹرول بحال کرلیا تھا جس کے بعد مقامی جماعت کی نشستوں کی تعداد 7 تک پہنچ گئی ۔ علحدہ تلنگانہ کی تشکیل کے 10 برس بعد مقامی جماعت کی سیاست و برسر اقتدار بی آر ایس سے دوستی نے شہریوں میں ناراضگی پیدا کردی کیونکہ بی آر ایس سے دوستی کا عوام سے زیادہ قیادت کو فائدہ پہنچا جبکہ پرانے شہر کے مسائل جوں کے توں برقرار ہیں۔ عوام کی نمائندگی کیلئے قابل اور دیانتدار شخصیتوں کو امیدوار بنانے کی بجائے قدیم پالیسی کا احیاء کرکے مجلسی قیادت نے اہلیت کی بجائے اپنے وفاداروں کو عوام پر مسلط کرنے کی کوشش کی ہے۔ چارمینار ، یاقوت پورہ ، نامپلی و بہادر پورہ میں جن امیدواروں کو میدان میں اتارا گیا، انکے بارے میں عوامی رائے مختلف ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ دیگر علاقوں میں کارکردگی کے اعتبار سے ناکام ہونے والے افراد مسلط کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ عوام کے مفادات کے خلاف کام کرنے اور مختلف اسکامس میں ملوث افراد کو پرانے شہر کے رائے دہندوں پر مسلط کردیا گیا جس کے نتیجہ میں پھر ایک مرتبہ 1994 کے انقلاب کو عوام یاد کر رہے ہیں۔ مجلسی قیادت نے امیدواروں کے انتخاب میں عوام کی پسند اور ان کی ترجیحات پر توجہ نہیں دی اور سابق کی طرح کھمبے کو ٹکٹ باندھنے کی یاد تازہ کردی۔ پرانے شہر بھلے ہی پسماندہ ضرور ہے لیکن خواندگی کی شرح میں اضافہ ہوچکا ہے۔ نوجوان نسل سوال کر رہی ہے کہ آخر انہیں کب تک مقامی جماعت کے مسلط کردہ افراد کو منتخب کرنا پڑیگا۔ پرانے شہر میں قابل اور اہل نوجوانوں کی کمی نہیں ہے جو موجودہ ارکان اسمبلی سے زیادہ عوامی خدمت کا نہ صرف جذبہ رکھتے ہیں بلکہ منتخب ہونے پر کامیاب رکن اسمبلی ثابت ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ امیدواروں کے اعلان کے ساتھ ہی عوام میں بے چینی اب واضح نظر آنے لگی ہے۔ یاقوت پورہ اور نامپلی میں مجلس کے حریف مضبوط امیدواروں کو عوامی تائید حاصل ہورہی ہے ۔ مرحوم امان اللہ خاں کے سیاسی جانشینوں نے اقتدار کے بغیر بھی گزشتہ 10 برسوں میں عوامی خدمات کا غیر معمولی ریکارڈ قائم کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یاقوت پورہ اسمبلی حلقہ میں رائے دہندے 1994 ء کی طرح تبدیلی کے حق میں ووٹ دینے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ مجلسی قیادت کو 4 اسمبلی حلقہ جات میں سخت مزاحمت کا سامنا ہے جس کے نتیجہ میں صدر مجلس زیادہ تر وقت نامپلی ، یاقوت پورہ ، چارمینار اور ملک پیٹ پر دے رہے ہیں۔ کیا عوام کا فیصلہ 3 ڈسمبر کو مجلس کی موجودہ 7 نشستوں کو گھٹانے کا سبب بنے گا۔ پرانے شہر کی سیاسی صورتحا پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ تبدیلی اور ناراضگی کی یہ لہر کس حد تک ووٹ میں تبدیل ہوگی ، اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا لیکن نوجوان نسل میں پائی جانے والی بے چینی ضرور رنگ لائے گی۔